بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قرآن کی قسم


سوال

مجھ سے قرآن کی قسم اٹھوائی  گئی ہے اور میں نے سچ کی قسم اٹھائی ہے اب اس کا کیا ہدیہ ہو گا؟

جواب

گزری ہوئی کسی بات یا کام پر اگر کوئی آدمی قرآن کی قسم اٹھا لے اور وہ قسم اٹھانے میں سچا ہو تو  شرعاً یہ قسم درست ہے، اس پرکوئی مواخذہ (ہدیہ/ کفارہ) نہیں ہے۔ البتہ کوشش کرنی چاہیے کہ معمولی باتوں پر قسم نہ اٹھائی جائے۔ اور اگر آئندہ کسی کام کے کرنے کی سچی (دل سے) قسم اٹھائی ہے اور وہ کام جائز ہو تو اسے پورا کرنا چاہیے، کسی معقول شرعی وجہ کے بغیر قسم نہ توڑی جائے، جب تک قسم نہ ٹوٹے کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200135

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے