بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

قبر کو پختہ اور مزین کرنا / میت کمیٹی کا حکم


سوال

میں نے چند دن پہلے ایک سوال کیا تھا:

1- کنیٹ جس سے قبر سنواری جاتی ہے اس سے قبر سنوارنے کا کیا حکم ہے؟

2- بعض علاقوں میں فوتگی پر اخراجات کے لیے کمیٹی بنائی جاتی ہے، جس کے متعین چند ممبرز ہوتے ہیں جو برابر ماہانہ قسط دیتے ہیں۔اور فوتگی کے تین دن کھانا کھلانے کے اخراجات ادا کیے جاتے ہیں، اس کا کیا حکم ہے؟

آپ کی طرف سے ای میل کے ذریعے ’’کینٹ‘‘ کی وضاحت پوچھی گئی کہ  ’’کینٹ‘‘سے کیا مراد ہے ؟

اور میت کمیٹی کے جواب کے لیے آپ نے ایک لنک بھیج دیا تھا کہ اس پر تفصیلی جواب موجود ہے۔ 

اس ضمن میں وضاحت درج ذیل ہے:

’’کینٹ‘‘  یہ ایک تعمیراتی بلاک کی طرح کا پتھر ہے، اس سے لوگ قبر پختہ کرتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے میت کمیٹی کے شرعی حکم کے حوالے سے جو لنک بھیجا ہے، وہ مجھ سے نہیں کھل رہا، برائے مہربانی اس کا حکم تفصیلاً یہیں بتادیجیے!

جواب

1- قبر کو پختہ بنانا  یا سنوارنا جائز نہیں ہے۔البتہ صرف دائیں بائیں سے کوئی پتھر لگادینا  کہ اصل قبر  (یعنی جتنے حصے میں میت دفن ہے) کچی مٹی کی ہو، اور اردگرد پتھر، یا بلاک وغیرہ سے منڈیر نما بنا دیا جائے یا معمولی سا احاطہ بنا دیا جائے کہ قبر کا نشان نہ مٹ جائے، یا اردگر زمین پر پختہ فرش کردیا جائے تاکہ قبر واضح ہوجائے، اس کی اجازت ہے، لیکن اس میں بھی دو باتوں کا خیال ضروری ہے: 

1: اس کے لیے سادہ پتھر استعمال کیا جائے زیب زینت والا کوئی پتھر نہ ہو۔ نیز آگ پر پکی ہوئی اینٹیں بھی نہ لگائی جائیں۔

2: قبر کے اوپر قبہ نما یا حجرہ بناکر چھت نہ ڈالی جائے۔

’’عن جابر رضي اللّٰه عنه نهی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم أن یجصص القبر وأن یعقد علیه وأن یبنی علیه‘‘. (صحیح مسلم،  ۱/۳۱۲، سنن أبي داوٴد ۲/۴۶۰، سنن الترمذي ۱/۲۰۳، سنن النسائي ۱/۲۲، سنن ابن ماجة ۱/۱۱۲)

ولم یکن من هدیه صلی اللّٰه علیه وسلم تعلیة القبور ولا بناء ها بآجر، ولا بحجر ولبن، ولا تشییدها، ولا تطیینها، ولا بناء القباب علیها، فکل هذا بدعة مکروهة مخالفة لهدیه صلی اللّٰه علیه وسلم، وقد بعث علي بن أبي طالب إلی الیمن ألا یدع تمثلاً إلا طمسه، ولا قبر مشرفاً إلا سَوَّاه فسنته صلی اللّٰه علیه وسلم تسویة هذه القبور المشرفة کلها، ونهى أن یجصص القبر، وأن یبنی علیه، وأن یکتب علیه، وکانت قبور أصحابه لا مشرفة ولا لاطئة، وهکذا کان قبره الکریم وقبر صاحبیه، فقبره صلی اللّٰه علیه وسلم مُسَنَّمٌ مبطوح ببطحاء العرصة الحمراء لا مبنيَّ ولا مطینَ، وهکذا کان قبر صاحبیه‘‘. (زاد المعاد ۱/۵۰۵، فصل في تعلیة القبور، ط: موٴسسة الرسالة، بیروت)

2- میت کی تجہیز و تکفین کے لیے قائم کمیٹیوں کی شرعی حیثیت کی تفصیل درج ذیل ہے:

آج کل مختلف مقامات پر خاندان اور برادری میں میت کمیٹیاں بنانے کا رواج چل پڑا ہے، اس کمیٹی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کمیٹی کے کسی ممبر کے گھر میں اگر خدانخواستہ موت کا سانحہ پیش آجائے تو اس کی تجہیزوتکفین کا خرچہ برداشت کیا جائے، نیز میت کے گھر والوں اور تعزیت کے لیے آئے مہمانوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرنا بھی اسی کمیٹی کی ذمہ داری شمار ہوتی ہے، اس کمیٹی کا ممبر صرف ایک  خاندان یا برادری یا محلے کے لوگوں کو بنایا جاتا ہے، ممبر بننے کے لیے شرائط ہوتی ہیں، مثلاً یہ کہ ہر ماہ یا ہر سال ایک مخصوص مقدار میں رقم جمع کرانا لازم ہے، اگر یہ رقم جمع نہ کرائی جائے تو ممبر شپ ختم کردی جاتی ہے، جس کے بعد وہ شخص کمیٹی کی سہولیات سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتا، عام طور پر یہ کمیٹیاں دو طرح کے اخراجات برداشت کرتی ہیں:

1:…کفن و دفن کے اخراجات، یعنی کفن، قبرستان تک لے جانے کے لیے گاڑی اور قبر وغیرہ کا خرچہ۔

2:…میت کے اہل خانہ اور مہمانوں کے کھانے کا خرچہ۔

شرعی نکتہ نگاہ سے ان دونوں طرح کے اخراجات میں حسب ذیل تفصیل ہے:

میت کی تجہیز و تکفین کا خرچہ جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کی تجہیز و تکفین اور تدفین کے اخراجات کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر میت کا ذاتی مال موجود ہوتو اس کے کفن دفن کا خرچہ اسی میں سے کیا جائے گا۔(۱) اگر اس کے ترکہ میں مال موجود نہیں تو اس کے یہ اخراجات اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس پر اس کی زندگی میں مرحوم کا خرچہ واجب تھا، لہٰذا اگر میت کا باپ اور بیٹا دونوں زندہ ہوں تو کفن و دفن کے اخراجات بیٹے کے ذمہ ہوں گے، کیوں کہ جب کسی شخص کے پاس کوئی مال نہ ہواور اس کا باپ اور بیٹا دونوں موجود ہوں تواس کے اخراجاتِ زندگی بیٹے پر واجب ہوتے ہیں ،باپ پر نہیں،(۲)بیوی کا کفن دفن شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، اگرچہ اس کے پاس مال موجود ہو، (۳) اگر میت کے پس ماندگان میں ایسا کوئی شخص نہ ہو جس پر اس کا خرچہ واجب ہوتا ہے یا ایسا کوئی فرد موجود ہو، لیکن وہ خود اتنا غریب ہو کہ یہ خرچہ برداشت نہیں کرسکے تو تکفین و تدفین کی ذمہ داری حکومتِ وقت کی ہے، لیکن اگر حکومتِ وقت یہ خرچہ نہیں اُٹھاتی یا ان کے نظم میں ایسی کوئی صورت نہ ہو تو جن مسلمانوں کو اس کی موت کا علم ہے، ان پر اس کی تکفین و تدفین کا خرچہ واجب ہے، اگر جاننے والے بھی سب غریب ہیں تو پھر وہ لوگوں سے چندہ کرکے یہ اخراجات برداشت کریں اور جو رقم باقی بچے وہ دینے والے کو واپس کریں، اگردینے والے کا علم نہ ہو تو اس رقم کو سنبھال کر رکھیں، اور اگر دوبارہ اس طرح کی صورتِ حال پیش آئے تو اس کی تکفین و تدفین میں اُسے خرچ کریں۔ (۴)

میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا انتظام میت کے رشتہ داروں اور ہم سایوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ میت کے اہلِ خانہ کے لیے ایک دن اور رات کے کھانے کا انتظام کریں، کیوں کہ میت کے اہلِ خانہ غم سے نڈھال ہونے اور تجہیز و تکفین میں مصروف ہونے کی وجہ سے کھانا پکانے کا انتظام نہیں کرپاتے،(۵) غزوۂ موتہ میں جب نبی کریم ﷺ  کے چچا زاد بھائی حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور ان کی وفات کی خبر آپ ﷺ  تک پہنچی تو آپ ﷺ  نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرو ،کیوں کہ ان پرایسا شدید صدمہ آن پڑا ہے جس نے انہیں(دیگر اُمور سے )مشغول کردیا ہے۔ (۶)

میت کے اہل خانہ کے علاوہ جو افراد دور دراز علاقوں سے میت کے اہل خانہ سے تعزیت اور تکفین و تدفین میں شرکت کے لیے آئے ہوں اگر وہ بھی کھانے میں شریک ہوجائیں تو ان کا شریک ہونا  بھی درست ہے، تاہم تعزیت کے لیے قرب و جوار سے آئے لوگوں کے لیے میت کے ہاں باقاعدہ کھانے کا انتظام کرناخلافِ سنت عمل ہے۔(۷)

مروجہ انجمنوں اور کمیٹیوں کے بظاہر نیک اور ہمدردانہ مقاصد سے ہٹ کر کئی شرعی قباحتیں ہیں:

1:… کمیٹی کا ممبر بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد، چاہے امیر ہو یا غریب، ہر ماہ ایک مخصوص رقم کمیٹی میں جمع کرے،اگر وہ یہ رقم جمع نہیں کراتا تو اُسے کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، پھر کمیٹی اس کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتی جو ماہانہ چندہ دینے والے ممبران کو مہیا کرتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کمیٹی کی بنیاد ’’امدادِ باہمی‘‘ پر نہیں، بلکہ اس کا مقصد ہرممبر کو اس کی جمع کردہ رقم کے بدلے سہولیات  فراہم کرنا ہے، یہ سہولیات اس کی جمع کردہ رقم کی نسبت سے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوسکتی ہیں، یہ معاملہ واضح طور پر قمار (جوا)کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ (۸)

2:…کمیٹی کے ممبران میں سے بعض اوقات غریب و نادارلوگ بھی ہوتے ہیں،جو اتنی وسعت واستطاعت نہیں رکھتے کہ ماہانہ سو روپے بھی ادا کرسکیں، لیکن خاندانی یا معاشرتی رواداری کی خاطر یا لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے وہ مجبوراً یہ رقم جمع کراتے ہیں، یوں وہ رقم تو جمع کرادیتے ہیں، لیکن اس میں خوش دلی کا عنصر مفقود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مال استعمال کرنے والے کے لیے حلال طیب نہیں ہوتا، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ کسی مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لیے صرف اس کی دلی خوشی اور رضامندی کی صورت میں حلال ہے۔(۹)

3:… بسااوقات اس طریقہ کار میں ضرورت مند اور تنگ دست سے ہمدردی اور احسان کی بجائے اس کی دل شکنی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کا رویہ برتا جاتا ہے، کیوں کہ خاندان کے جو غریب افراد کمیٹی کی ماہانہ یا سالانہ فیس نہیں بھر پاتے انہیں کمیٹی سے خارج کردیا جاتا ہے، اس طرح ان کی حاجت اور ضرورت کے باوجود اُنہیں اس نظم کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور پھر موت کے غمگین موقع پر اُسے طرح طرح کی باتوں اور رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

4:… اس طریقہ کار میں کھانا کھلانا ایک عمومی دعوت کی شکل اختیار کرجاتا ہے، حال آں کہ مستحب یہ ہے کہ یہ انتظام صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہو۔(۱۰)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر کسی کے ہاں میت ہوجائے تومستحب یہ ہے کہ میت کے عزیز و اقارب و پڑوسی مل کر میت کے اہل خانہ کے لیے کھانے کا انتظام کریں، میت کی تجہیزو تکفین کے خرچہ کے لیے دیکھا جائے کہ اگر میت نے کچھ مال چھوڑا ہے توتجہیز و تکفین کا خرچہ اس کے مال میں سے کیا جائے اور اگر میت نے کسی قسم کا مال نہیں چھوڑا توجس شخص پر اس کا خرچہ واجب ہے وہ یہ اخراجات برداشت کرے، اگر وہ نہیں کرپاتا تو خاندان کے مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ یہ اخراجات اپنے ذمے لے لیں، مروجہ کمیٹیوں کے قیام میں شرعاً کئی قباحتیں ہیں ، اس سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ اگرمندرجہ بالا قباحتوں سے اجتناب کرتے ہوئے رفاہی انجمن یا کمیٹی قائم کی جائے جس میں مخیر حضرات ازخود چندہ دیں، کسی فردکوچندہ دینے پر مجبور نہ کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے، یہ انجمن یا کمیٹی خاندان کے لوگوں کی ضروریات کی کفالت کرے، بے روزگار افراد کے لیے روزگار ، غریب و نادار بچیوں کی شادی اور دیگر ضروریات میں ضرورت مندوں کی مدد کرے، ان امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اگریہ کمیٹی یا انجمن خاندان کے کسی فرد کی موت کے بعد اس کی تجہیز و تکفین پر آنے والے اخراجات بھی اپنے ذمہ لے تو یہ درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

حوالہ جات:

۱:… ( یبدأ من ترکة المیت  بتجهیزه)  یعم التکفین (من غیر تقتیر ولا تبذیر ) ککفن السنة أو قدر ما کان یلبسه في حیاته.‘‘ ( الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الفرائض،ج: ۷،ص:۷۵۹ ، ط:سعید)

۲:… ( وکفن من لا مال له علٰی من تجب علیه نفقته) فإن تعددوا فعلی قدر میراثهم. و في الرد: (قوله: فعلی قدر میراثهم ) کما کانت النفقة واجبة علیهم فتح، أی فإنها علی قدر المیراث فلو له أخ لأم وأخ شقیق فعلی الأول السدس والباقي علی الشقیق. أقول: ومقتضی اعتبار الکفن بالنفقة أنه لو کان له ابن وبنت کان علیهما سویة کالنفقة إذ لایعتبر المیراث في النفقة الواجبة علی الفرع لأصله ولذا لو کان له ابن مسلم وابن کافر فهي علیهما ومقتضاه أیضاً أنه لو کان للمیت أب وابن کفنه الابن دون الأب کما في النفقة علی التفاصیل الآتیة في بابها إن شاء اللّٰه تعالی‘‘. ( رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجنائز، ج: ۲،ص: ۲۰۵،۲۰۶، ط:سعید)

۳:… ( واختلف في الزوج والفتوی علی وجوب کفنها علیه ) عند الثاني ( وإن ترکت مالاً) خانیة، ورجحه في البحر بأنه الظاهر؛ لأنه ککسوتها. و في الرد: مطلب في کفن الزوجة علی الزوج. (قوله:واختلف في الزوج) أي وجوب کفن زوجته علیه. (قوله: عند الثاني ) أي أبي یوسف، وأما عند محمد فلایلزمه لانقطاع الزوجیة بالموت. وفي البحر عن المجتبٰی: أنه لا روایة عن أبي حنیفة لکن ذکر في شرح المنیة عن شرح السراجیة لمصنفها أن قول أبي حنیفة کقول أبي یوسف. (قوله: وإن ترکت مالاً الخ ) اعلم أنه اختلفت العبارات في تحریر قول أبی یوسف ، ففي الخانیة و الخلاصة و الظهیریة: أنه یلزمه کفنها وإن ترکت مالاً، وعلیه الفتوی. وفي المحیط و التجنیس و الواقعات و شرح المجمع لمصنفه: إذا لم یکن لها مال فکفنها علی الزوج، وعلیه الفتوی. وفي شرح المجمع لمصنفه: إذا ماتت ولا مال لها فعلی الزوج المسراه. ومثله في الأحکام عن المبتغی بزیادة: وعلیه الفتوی. ومقتضاه أنه لو معسراً لایلزمه اتفاقاً. وفي الأحکام أیضًا عن العیون: کفنها في مالها إن کان، وإلا فعلى الزوج، ولو معسراً ففي بیت المال الخ والذي اختاره في البحر: لزومه علیه موسراً أو لا، لها مال أو لا، لأنه ککسوتها وهي واجبة علیها مطلقاً، قال: وصححه في نفقات الولوالجیة الخ، قلت: وعبارتها إذا ماتت المرأة ولا مال لها، قال أبو یوسف: یجبر الزوج علی کفنها والأصل فیه: أن من یجبر علی نفقته في حیاته یجبر علیها بعد موته وقال محمد: لایجبر الزوج والصحیح الأول الخ ، فلیتأمل.

تنبیه: قال في الحلیة ینبغي أن یکون محل الخلاف ما إذا لم یقم بها مانع یمنع الوجوب علیه حالة الموت من نشوزها أو صغرها ونحو ذلک الخ وهو وجیه لأنه إذا اعتبر لزوم الکفن بلزوم النفقة سقط بما یسقطها. ثم اعلم أن الواجب علیه تکفینها وتجهیزها الشرعیان من کفن السنة أو الکفایة وحنوط وأجرة غسل وحمل ودفن دون ما ابتدع في زماننا من مهللین وقراء ومغنین وطعام ثلاثة أیام ونحو ذلک، ومن فعل ذلک بدون رضا بقیة الورثة البالغین یضمنه في ماله‘‘. (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجنائز،ج: ۲،ص:۲۰۵،۲۰۶ ، ط:سعید)

۴:… ( وإن لم یکن ثمة من تجب علیه نفقته ففي بیت المال فإن لم یکن ) بیت المال معموراً أو منتظماً (فعلی المسلمین تکفینه ) فإن لم یقدروا سألوا الناس له ثوباً فإن فضل شیء رد للمصدق إن علم وإلا کفن به مثله وإلا تصدق به، مجتبی. وظاهره أنه لایجب علیهم إلا سؤال کفن الضرورة لا الکفایة ولو کان في مکان لیس فیه إلا واحد وذلک الواحد لیس له إلا ثوب لایلزمه تکفینه به. و في الرد: (قوله:فإن لم یکن بیت المال معموراً ) أی بأن لم یکن فیه شيء أو منتظماً أي مستقیمًا بأن کان عامراً ولایصرف مصارفه ط، (قوله: فعلی المسلمین ) أي العالمین به وهو فرض کفایة یأثم بترکه جمیع من علم به، ط ، (قوله: فإن لم یقدروا ) أي من علم منهم بأن کانوا فقراء، (قوله: وإلا کفن به مثله ) هذا لم یذکره في المجتبی، بل زاده علیه في البحر عن التنجیس و الواقعات، قلت: وفي مختارات النوازل لصاحب الهدایة: فقیر مات فجمع من الناس الدراہم وکفنون وفضل شیء إن عرف صاحبه یرد علیه وإلا یصرف إلى کفن فقیر آخر أو یتصدق به‘‘. ( رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجنائز، ج: ۲،ص:۲۰۵،۲۰۶ ، ط:سعید )

۵:… ولا بأس باتخاذ طعام لهم. و في الرد: (قوله: وباتخاذ طعام لهم ) قال في الفتح: ویستحب لجیران أهل المیت والأقرباء الأباعد تهیئة طعام لهم یشبعهم یومهم ولیلتهم‘‘. ( رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجنائز،ج:۲ ،ص:۲۴۰ ، ط:سعید)

۶:… حدثنا أحمد بن منیع و علي بن حجر قالا: حدثنا سفیان بن عیینة عن جعفر بن خالد عن أبیه عن عبد اللّٰه بن جعفر قال : لما جاء نعي جعفر قال النبي صلی اللّٰه علیه وسلم: اصنعوا لأهل جعفر طعاماً فإنه قد جاء هم ما یشغلهم. قال أبو عیسی: هذا حدیث حسن صحیح، وقد کان بعض أهل العلم یستحب أن یوجه إلی أهل المیت شيء لشغلهم بالمصیبة وهو قول الشافعي. قال أبو عیسی: و جعفر بن خالد هو ابن سارة وهو ثقة روی عنه ابن جریج‘‘. (أبواب الجنائز، باب ما جاء في الطعام یصنع لأهل المیت، ج:۱ ،ص:۱۹۵ ، قدیمی)

۷:… قال في الفتح: ویستحب لجیران أهل المیت والأقرباء الأباعد تهیئة طعام لهم یشبعهم یومهم ولیلتهم؛ لقوله: اصنعوا لآل جعفر طعاماً فقد جاء هم ما یشغلهم. حسنه الترمذي وصحح الحاکم. ولأنه بِرٌّ ومعروف، ویلح علیهم في الأکل؛ لأن الحزن یمنعهم من ذلک فیضعفون الخ.

مطلب في کراهة الضیافة من أهل المیت وقال أیضاً ویکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهه بدعة مستقبحة، وروی الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحیح عن جریر بن عبد اللّٰه قال: کنا نعد الاجتماع إلى أهل المیت وصنعهم الطعام من النیاحة الخ‘‘  ( رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجنائز،ج: ۲،ص:۲۴۰ ، ط:سعید)

۸:…لأن القمار من القمر الذي یزداد تارةً وینقص أخری وسمي القمار قماراً؛ لأن کلَّ واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذهب ماله إلی صاحبه، ویجوز أن یستفید مال صاحبه وهو حرام بالنص‘‘. ( کتاب الحظر و الإباحة، فصل في البیع،ج:۶ ،ص:۴۰۴ ، ط:سعید)

۹:… عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: کنت آخذاً بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم في أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس، فقال: یا أیها الناس! ألا لاتظلموا ، ألا لاتظلموا، ألا لاتظلموا، إنه لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه‘‘. ( مسند أحمد، مسند الکوفیین، حدیث عم أبي حرة الرقاشي، رقم الحدیث: ۲۰۷۱۴،ج:۵، ص:۷۲، ط:مؤسس قرطبة القاهرة)

۱۰:…وروی الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحیح عن جریر بن عبد اللّٰه، قال: کنا نعد الاجتماع إلى أهل المیت وصنعهم الطعام من النیاحة الخ ‘‘ ( رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجنائز،ج:۲ ،ص:۲۴۰ ، ط:سعید)


فتوی نمبر : 144010200778

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے