بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

قادیانی کی طرف سے افطاری کی دعوت قبول کرنی چاہیے یا نہیں؟


سوال

میں جمہوریہ چیک میں طالب علم ہوں، یہاں صرف بیس تیس مسلمان اور چھ سات پاکستانی ہیں ۔ ایک پاکستانی قادیانی ہے۔ وہ ہمارا  دوست ہے، اور ہر وقت اس کے ساتھ لین میں کام بھی کرنا لڑتا ہے۔ لیکن ہم اس سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، البتہ کبھی کبھار اس کے ساتھ کھانا کھا لیتے ہیں ۔ اب رمضان میں وہ اگر ہمیں افطاری پر بلائے تو کیا ہم جا سکتے ہیں ؟

جواب

قادیانی کے ساتھ تعلقات رکھنے سے اپنے دین اور عقیدے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، اس لیے کسی قادیانی کی طرف سے دی جانے والے افطاری کی دعوت کو قبول کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ نیز مسلمان کے لیے کسی بھی غیر مسلم سے دوستانہ (دلی) تعلق رکھنا نصِ قرآنی کی رو سے ممنوع ہے؛ اس لیے بھی آپ اس سے دوستی کا تعلق نہ رکھیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201444

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے