بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

امام یا منفرد فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں قراءت نہ کرے تو کیا حکم ہوگا؟


سوال

اگر امام ہو یا منفرد ظہر کی فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت فاتحہ نہ پڑھے یا خاموش رہے یا اور کوئی تسبیح وغیرہ پڑھے، مثلاً: سبحان اللہ کچھ مرتبہ پڑھ لے تو کیا نماز ہو جائے گی؟

جواب

فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت کے قیام میں سورۂ فاتحہ پڑھنا مسنون ہے، البتہ قیام کی حالت میں ایک مرتبہ تسبیح پڑھنے یا اس کے بقدر خاموش رہنے سے بھی بلا کراہت نماز ہوجاتی ہے۔

"وأما في الأخريين، فالأفضل أن يقرأ فيهما بفاتحة الكتاب، ولو سبح في كل ركعة ثلاث تسبيحات مكان فاتحة الكتاب أو سكت أجزأته صلاته، ولايكون مسيئاً إن كان عامداً، ولا سهو عليه إن كان ساهياً، كذا روى أبو يوسف عن أبي حنيفة أنه مخير بين قراءة الفاتحة والتسبيح والسكوت، وهذا جواب ظاهر الرواية … والصحيح جواب ظاهر الرواية؛ لما روينا عن علي وابن مسعود - رضي الله عنهما - أنهما كانا يقولان: إن المصلي بالخيار في الأخريين، إن شاء قرأ وإن شاء سكت وإن شاء سبح، وهذا باب لايدرك بالقياس، فالمروي عنهما كالمروي عن النبي صلى الله عليه وسلم". ( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ، ۱/۱۱۱، دار الكتب العلمية)

(قوله: وفي النهاية قدر تسبيحة) قال شيخنا: وهو أليق بالأصول حلية: أي لأن ركن القيام يحصل بها لما مر أن الركنية تتعلق بالأدنى". (فتاوی شامی، ۱/۵۱۱، سعید)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008202027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے