بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

فرض نماز کے بعد دعاء کی مقدار


سوال

  جن نمازوں کے بعد سنتیں ہے، ان نمازوں کے بعد کتنی دیر تک دعا کر سکتے ہیں؟ سنت طریقہ کیا ہے؟

جواب

 فجر اور عصر کی فرض نماز کے بعد ذرا اطمینان سے کچھ تسبیح وغیرہ پڑھ کر، لمبی دعا کرنا سنت سے ثابت ہے ،اور بقیہ تین نمازوں میں مختصر دعا کرنا سنت ہے۔ "بخاری شریف" میں ہے: آں حضرت ﷺ ہر فرض نماز کے بعد  '' لا إله إلا اﷲ وحده لا شریک له ، له الملک وله الحمد وهو علی کل شی قدیر، اللّٰهم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لمامنعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد ''پڑھتے تھے (ج۱ ، ص ۱۱۷ ، باب الذکر بعد الصلوٰۃ)

دیگر روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بقدر مختلف اذکار اور دعائیں پڑھنا بھی منقول ہے ؛ اس لیے جتنی مقدار کی دعائیں اور اذکار احادیث سے ثابت ہیں اتنی دعائیں اور اذکار پڑھ سکتے ہیں، یہ دعائیں اور اذکار طویل دعا میں داخل نہیں ہیں، ان سے زیادہ مقدار طویل شمار ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے