بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

فرش پر بچھائے جانے والی پلاسٹک کی شیٹوں کو پاک کرنے کا طریقہ


سوال

پلاسٹک کی وہ شیٹیں جو فرشوں پر بچھائی جاتی ہیں وہ اگر ناپاک ہوجائیں تو ان کو پاک کرنے کی کیا صورت ہے؟ کیا ناپاکی صاف کر لینا کھرچ لینا کافی ہے یا دھونا ضروری ہے پیشاب وغیرہ ہو تو؟

جواب

پلاسٹک کی شیٹیں جو فرش پر بچھائی جاتی ہیں وہ چوں کہ اپنے اندر نجاست کو جذب نہیں کرتی ہیں اور کھردری بھی نہی ہوتیں کہ نجاست کے اجزاء ان میں باقی رہ جائیں؛ اس لیے ناپاک ہونے کی صورت میں ان کو پانی سے دھونا شرط نہیں ہے، پلاسٹک کی شیٹ پر لگنے والی ناپاکی اگر ٹھوس ہو اور لگنے کے بعد خشک ہو چکی ہو تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے کھرچ کر گیلے کپڑے سے پونچھ لیا جائے جس سے نجاست کے اثرات ختم ہوجائیں، اور اگر نجاست مائع (بہنے والی) ہو، مثلاً پیشاب وغیرہ  اور لگنے کے بعد خشک ہو چکی ہو تو اسے صرف گیلے کپڑے سے پونچھ لینا کافی ہے، اور اگر نجاست  خشک نہ ہوئی ہو بلکہ تر ہو  (چاہے ٹھوس ہو یا مائع ہو) تو اسے کپڑے  سے پونچ لینا (جس سے نجاست کا اثر ختم ہوجائے) کافی ہے، چاہے کپڑا گیلا ہو یا خشک ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 310):

’’( و) يطهر (صقيل) لا مسام له (كمرآة) وظفر وعظم وزجاج وآنية مدهونة أو خراطي وصفائح فضة غير منقوشة بمسح يزول به أثرها مطلقاً، به يفتى.

 (قوله: صقيل) احترز به عن نحو الحديد إذا كان عليه صدأ أو منقوشاً، وبقوله: " لا مسام له " عن الثوب الثقيل، فإن له مساماً، ح عن البحر. (قوله: وآنية مدهونة) أي: كالزبدية الصينية، حلية. (قوله: أو خراطي) بفتح الخاء المعجمة والراء المشددة بعدها ألف وكسر الطاء المهملة آخره ياء مشددة نسبة إلى الخراط، وهو خشب يخرطه الخراط فيصير صقيلاً كالمرآة ح (قوله: بمسح) متعلق بيطهر، وإنما اكتفى بالمسح؛ لأن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا يقتلون الكفار بسيوفهم ثم يمسحونها ويصلون معها؛ ولأنه لا تتداخله النجاسة، وما على ظهره يزول بالمسح بحر. (قوله: مطلقاً) أي: سواء أصابه نجس له جرم أو لا، رطباً كان أو يابساً على المختار للفتوى، شرنبلالية عن البرهان.

قال في الحلية: والذي يظهر أنها لو يابسة ذات جرم تطهر بالحت والمسح بما فيه بلل ظاهر من خرقة أو غيرها حتى يذهب أثرها مع عينها، ولو يابسة ليست بذات جرم كالبول والخمر فبالمسح بما ذكرناه لا غير، ولو رطبة ذات جرم أو لا فبالمسح بخرقة مبتلة أو لا‘‘.فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200777

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے