بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

موٹر سائیکل فروخت کرنے کی ایک اسکیم


سوال

ایک کمپنی 2160 کی موٹرسائیکل بک کرتی ہے اور چالیس دن بعد ساتھ شوروم سے کہتے ہیں: چابی لاؤ، پھر چابی دے کر 2 ہزار سے 4 ہزار  تک منافع دیتی ہے. یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ موٹر سائیکل فروخت کرنے کا معاملہ کے جائز ہونے کے لیے درج ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:

1۔۔ مذکورہ معاملہ محض منافع کے حصول اور کاروبار کے لیے نہ کیا جائے، بلکہ حقیقتاً موٹر سائیکل خریدنا ہی مقصود ہو،  لہذا اگر  باقاعدہ موٹرسائیکل کی خریداری مقصود نہ ہو اور مذکورہ بیع  کو باقاعدہ کاروبار کی شکل میں اس لیے کیا جائے؛  تاکہ  فروخت کرنے والا اس بیع کے نام پر لوگوں سے   رقم وصول کرے  ، اور  خریدار کا مقصود بھی اس رقم کے بدلے منافع کمانا ہوتو یہ جائز نہ ہوگا؛  یہ  گویا قرض پر نفع کی صورت ہے کہ  خریدار  ابتداءً قرض دے کر اس پر منافع وصول کررہا ہے۔

2۔۔ مذکورہ معاملہ کے معاہدہ میں یہ شرط داخل نہ ہو کہ ایک ماہ یا  چالیس دن بعد خریدار چاہے تو  موٹر سائیکل لے لے یا اضافی رقم وصول کرلے، بلکہ مطلق موٹر سائیکل فروخت کرنے کا معاہدہ ہو؛ اگر مذکورہ معاملہ کے معاہدے میں شروع ہی سے یہ شرط داخل ہوکہ ایک ماہ بعدخریدار کواختیار ہوگاکہ چاہے توموٹرسائیکل لے لے یااضافی رقم وصول کرلے تو یہ معاہدہ ابتدا ہی س فاسد ہے، اورایسے معاہدے کے تحت موٹرسائیکل لینابھی جائز نہیں ہوگا۔

3۔۔ بقایا رقم کی ادائیگی کے بعد خریدار موٹر سائیکل پر قبضہ بھی کرلے، اگر خریدار وقتِ مقررہ  پر  فروخت کرنے والے سےموٹرسائیکل  لے کر  اس پر قبضہ حاصل نہ کرے   اورموٹر سائیکل پر قبضہ  کیے بغیر اسے فروخت کرنے والےکو  واپس فروخت کردے تو یہ  بھی جائز نہیں ہے۔

4۔۔  بقایا رقم کی ادائیگی کی مدت پوری ہونے کے بعد خریدار پہلے اپنی موٹر سائیکل کی بقایا رقم ادا کرے؛  تاکہ ایک معاملہ مکمل ہوجائے اور اس کے بعد پھر اس  موٹر سائیکل پر قبضہ کرکے  جس کو چاہے موٹر سائیکل فروخت کردے۔

5۔۔  موٹر سائیکل کے تمام اوصاف کمپنی کا نام ،  ماڈل، کلر،وغیرہ کی عقد کے وقت ہی تعیین کرلی جائے۔

اگر مذکورہ تمام شرائط پائی جائیں تو اس طرح کی خریدو فروخت کا معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے، اگر ان میں سے کوئی شرط بھی نہ پائی جائے تو پھر یہ معاملہ درست نہ ہوگا۔

"الجامع الصغير" میں ہے: 

  "كل قرض جر منفعة فهو رباً.(الجامع الصغیر للسیوطی، ص:395، برقم :9728، ط: دارالکتب العلمیہ، بیروت)

"تبیین  الحقائق " میں ہے :

"قال - رحمه الله -: (لا بيع المنقول) أي لايجوز بيع المنقول قبل القبض؛ لما روينا، ولقوله عليه الصلاة والسلام : «إذا ابتعت طعاماً فلاتبعه حتى تستوفيه». رواه مسلم وأحمد. ؛ ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد، فيتبين أنه باع ما لايملك، والغرر حرام؛ لما روينا". (4/ 80،  کتاب البیوع، ط: المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة)

"العنایہ " میں ہے:

 "والكراهة، إما؛ لأنه احتيال لسقوط الربا، فيصير كبيع العينة في أخذ الزيادة بالحيلة، وإما؛ لأنه يفضي إلى أن يألف الناس فيستعملوا ذلك فيما لايجوز".(العنایة شرح الهدایة، (7/ 148)، کتاب الصرف، ط: دارالفکر)

"الأشباہ والنظائر " میں  ہے:

"القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها، كما علمت في التروك. وذكر قاضي خان في فتاواه: إن بيع العصير ممن يتخذه خمراً، إن قصد به التجارة فلايحرم، وإن قصد به لأجل التخمير حرم، وكذا غرس الكرم على هذا. (انتهى) .وعلى هذا عصير العنب بقصد الخلية أو الخمرية، والهجر فوق ثلاث دائر مع القصد، فإن قصد هجر المسلم حرم وإلا لا".  (الأشباه والنظائر لابن نجیم(ص: 23)، الفن الأول: القواعد الکلیة، ط: دار الكتب العلمیة، بیروت – لبنان)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200276

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے