بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کے گھراور بینکوں وغیرہ میں ائرکنڈیشنڈ (A.C) کی مرمت کا کام کرنا


سوال

میرا ائر کنڈیشنڈ کی مرمت اور نئے A.Cانسٹا لیشن کا کام ہے، اور میں تقریباً ہر قسم کے لوگوں کے گھروں میں جاتا ہوں  A.Cکے کام کے لیے، یعنی ہندوؤں، شیعہ وغیرہ ، اور بینکوں میں بھی جاتا ہوں A.C کے کام کے لیے ۔ تو پوچھنا یہ چاہتا ہوں کے ان کے A.Cکی مرمت اور انسٹا لیشن کا کام کرنا اورکام کی اجرت لینا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے مذکورہ جگہوں پر ائر کنڈیشنڈ کا کام کرنا اور اس کی اجرت لینا جائز ہے، البتہ بینک میں مذکورہ خدمات فراہم کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

الأشباه والنظائر لابن نجيممیں ہے:

"القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها كما علمت في التروك. وذكر قاضي خان في فتاواه:إن بيع العصير ممن يتخذه خمراً إن قصد به التجارة فلايحرم وإن قصد به لأجل التخمير حرم، وكذا غرس الكرم على هذا (انتهى)". (ص:12، الفن الاول،  القاعدۃ الثانیۃ، ط: سعید)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 235):
"توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالاً من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولاً ثم اشترى منه بها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقاً ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولايجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية؛ فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفاً فاشترى بها جاريةً وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي؛ دفعاً للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها، وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي؛ دفعاً للحرج؛ لكثرة الحرام اهـ وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعاً للدرر وغيرها". 
  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200701

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے