بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غیر صحابی کے لیئے رضی اللہ عنہ کا استعمال


سوال

 یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا غیر صحابی کو رضی اللہ عنہ کہنا جائز ہے ؟ اگر جائز ہے تو اس کی کیا دلیل ہے ؟ جزاک اللہ

جواب

رضی اللہ عنہ ایک دعایئہ کلمہ ہے جس کے معنی ہیں اللہ ان سے راضی ہوجایئے۔ عرف کے اعتبار سے یہ کلمہ صحابہ کے لیئے استعمال ہوتاہے لیکن اپنے دعائیہ مفہوم کے اعتبار سے غیر صحابی کے لیئے بھی استعمال ہوسکتا ہے بشرطیکہ التباس لازم نہ آتا ہو۔ قرآن کریم کی سورۃ بینہ پارہ ۳۰ میں نیکو کار مومنین کے لیئے ارشاد فرمایا گیا ہے رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ  ۔آج کل عوام الناس اس کلمے کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین ہی ساتھ خاص سمجھتے  ہیں اور ان کا دھیان اس جملے سے صحابہ کی طرف جاتا ہے اس لیے ان کے سامنے غیر صحابی کے لیے اس جملے کے استعمال سے گریز اچھا ہے۔

 واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143609200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے