بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غیر شرعی امور پر مشتمل تقریبات میں شرکت نہ کرنا رہبانیت اور قطعہ تعلقی نہیں ہے


سوال

 آج کل جو مختلف رسوم ہیں جیسے شادی بیاہ و دیگر مواقع پر ہوتی ہیں تو اسی محفلوں میں شرکت کرنے سے اگر کوٰئی انکار کرے تو رہبانیت کا طعنہ دیا جاتا ہےکہ رہبانیت جائز نہیں، حال آں کہ ایسی محافل میں شرکت کرنے کے لیے دل و دماغ قطعی طور پر آمادہ نہ ہو۔ تو ایسی صورت میں دنیا داری( رشتہ داری) نبھانے کے لیے کیا کیا جائے؟

جواب

دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس میں غمی و خوشی ہر طرح کے حالات کے لیے مستقل احکامات دیے گئے ہیں ، اور ایک مسلمان کا فرض ہے کہ غمی ہو یا خوشی کسی حال میں بھی اپنے دین کے احکامات سے رو گردانی نہ کرے، بلکہ اپنی ہر خوشی و غم کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم کو سامنے رکھ کر اس پر چلنے کی پوری کوشش کرے، چنانچہ شادی بیاہ وغیرہ کے موقع پر شرعی پردے کا خیال نہ رکھنا، مخلوط اجتماع کرنا، موسیقی اور شور ہنگامہ کرنا وغیرہ یہ سب ناجائز امور ہیں ۔ چنانچہ ایسی تقریبات جو فی نفسہ تو جائز ہوں لیکن ان میں غیر شرعی امور (مثلاً مخلوط اجتماع، بے پردگی، موسیقی وغیرہ ) کا ارتکاب کیا جارہا ہو ان میں شرکت کا حکم یہ ہے کہ اگر پہلے سے یہ بات معلوم ہو کہ تقریب میں غیر شرعی امور کا ارتکاب ہوگا تو اس صورت میں ہرگز اس تقریب میں شرکت کے لیے نہیں جانا چاہیے،  اور جو شخص شرعی حکم کے پیش نظر ایسی محافل میں شرکت سے احتراز کرتا ہے اس کو شرکت پر مجبور کرنا اور شرکت نہ کرنے کو رہبانیت قرار دینا انتہائی غلط فعل اور دین کی غلط و من گھڑت تشریح ہے، ایسا کہنے والے کو صدقِ دل سے اپنے اس قول و فعل سے توبہ کرنی چاہیے۔

البتہ اگر مدعو شخص کوئی عالم و مقتدا ہو اور اسے امید ہو کہ وہ اس تقریب میں جاکر معصیت کے ارتکاب کو روک سکتا ہے تو اسے جانا چاہیے؛ تاکہ اس کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی گناہ سے بچ جائیں۔

 اور اگر پہلے سے معلوم نہ ہو کہ وہاں کسی معصیت کا ارتکاب ہورہا ہے، بلکہ وہاں جاکر معلوم ہو تو اگر اندر جانے سے پہلے معلوم ہوجائے تو واپس لوٹ آئے،اندر نہ جائے، البتہ اگر اندر جاکر اس معصیت کو بند کرنے پر قادر ہو تو اندر جاکر اس معصیت کو بند کروادے۔

اور اگر اندر داخل ہونے کے بعد معصیت کے ارتکاب کا علم ہو اور معصیت کو بند کرنے پر قدرت بھی نہ ہو تو مدعوشخص اگر عالم و مقتدا ہو تو وہ وہاں نہ بیٹھے، بلکہ اٹھ کر واپس چلا جائے، کیوں کہ اس کے وہاں بیٹھنے میں علم اور دین کا استخفاف (اہانت اور توھین) ہے، البتہ اگر مدعو شخص عام آدمی ہو تو وہاں بیٹھ کر کھانا کھانے کی گنجائش ہے۔

چوں کہ صلہ رحمی اور قطع رحمی شرعی اصطلاحات ہیں، اس لیے صلہ رحمی وہ ہوگی جو شریعت کی نظر میں صلہ رحمی ہو اور قطع رحمی بھی وہی کہلائے گی جو شریعت کی نظر میں قطع رحمی ہو، لہٰذا اگر کوئی شخص شرعی حکم کے پیش نظر اس طرح کی کسی تقریب یا رسوم میں شرکت نہ کرے تو اسے قطع رحمی نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اسے قطع رحمی کا گناہ ملے گا ، بلکہ عین ایمان کا تقاضہ ہونے کی وجہ سے اسے اس پر ثواب بھی ملے گا، البتہ  اس صورت میں رشتہ داری نبھانے کا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ آدمی اس تقریب سے پہلے یا بعد میں اہتمام سے شادی والے گھر جاکر ان کو مبارک باد بھی دے اور اگر استطاعت ہو تو ہدیہ کی نیت سے بقدر وسعت کوئی تحفہ بھی دے دے، کیوں کہ حدیث شریف سے پتا چلتا ہے کہ ہدیہ و تحفہ کے لین دین سے باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 128):

"رجل دعي إلى وليمة أو طعام وهناك لعب أو غناء جملة الكلام فيه أن هذا في الأصل لا يخلو من أحد وجهين إما أن يكون عالماً أن هناك ذاك وإما إن لم يكن عالماً به، فإن كان عالماً فإن كان من غالب رأيه أنه يمكنه التغيير يجيب؛ لأن إجابة الدعوى مسنونة قال النبي عليه الصلاة والسلام: «إذا دعي أحدكم إلى وليمة فليأتها»، وتغيير المنكر مفروض، فكان في الإجابة إقامة الفرض ومراعاة السنة، وإن كان في غالب رأيه أنه لا يمكنه التغيير لا بأس بالإجابة؛ لما ذكرنا أن إجابة الدعوة مسنونة، ولاتترك السنة لمعصية توجد من الغير، ألا ترى أنه لايترك تشييع الجنازة وشهود المأتم وإن كان هناك معصية من النياحة وشق الجيوب ونحو ذلك؟ كذا ههنا.

وقيل: هذا إذا كان المدعو إماماً يقتدى به بحيث يحترم ويحتشم منه، فإن لم يكن فترك الإجابة والقعود عنها أولى، وإن لم يكن عالماً حتى ذهب فوجد هناك لعباً أو غناءً فإن أمكنه التغيير غير، وإن لم يمكنه ذكر في الكتاب وقال: لا بأس بأن يقعد ويأكل، قال أبو حنيفة - رضي الله عنه -: ابتليت بهذا مرةً؛ لما ذكرنا أن إجابة الدعوة أمر مندوب إليه فلا يترك لأجل معصية توجد من الغير، هذا إذا لم يعلم به حتى دخل، فإن علمه قبل الدخول يرجع ولا يدخل، وقيل: هذا إذا لم يكن إماماً يقتدى به، فإن كان لايمكث بل يخرج؛ لأن في المكث استخفافاً بالعلم والدين، وتجرئة لأهل الفسق على الفسق، وهذا لايجوز وصبر أبي حنيفة - رحمه الله - محمول على وقت لم يصر فيه مقتدى به على الإطلاق ولو صار لما صبر، ودلت المسألة على أن مجرد الغناء معصية وكذا الاستماع إليه وكذا ضرب القصب والاستماع إليه، ألا ترى أن أبا حنيفة - رضي الله عنه - سماه ابتلاءً".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 347):

"(دعي إلى وليمة وثمة لعب أو غناء قعد وأكل) لو المنكر في المنزل، فلو على المائدة لاينبغي أن يقعد بل يخرج معرضاً؛ لقوله تعالى: {فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} [الأنعام: 68] (فإن قدر على المنع فعل وإلا) يقدر (صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان) مقتدى (ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد)؛ لأن فيه شين الدين والمحكي عن الإمام كان قبل أن يصير مقتدى به، (وإن علم أولاً) باللعب (لا يحضر أصلاً) سواء كان ممن يقتدى به أو لا؛ لأن حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله، ابن كمال. وفي السراج: ودلت المسألة أن الملاهي كلها حرام ويدخل عليهم بلا إذنهم لإنكار المنكر، قال ابن مسعود: صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية: استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «استماع الملاهي معصية، والجلوس عليها فسق، والتلذذ بها كفر»، أي بالنعمة، فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر، فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه»، وأشعار العرب لو فيها ذكر الفسق تكره اهـ أو لتغليظ الذنب كما في الاختيار أو للاستحلال، كما في النهاية.

وفي التتارخانية عن الينابيع: لو دعي إلى دعوة فالواجب الإجابة إن لم يكن هناك معصية ولا بدعة، والامتناع أسلم في زماننا إلا إذا علم يقيناً أن لا بدعة ولا معصية اهـ والظاهر حمله على غير الوليمة لما مر ويأتي، تأمل (قوله: وثمة لعب) بكسر العين وسكونها والغناء بالكسر ممدوداً السماع ومقصوراً اليسار (قوله: لا ينبغي أن يقعد) أي يجب عليه، قال في الاختيار: لأن استماع اللهو حرام، والإجابة سنة، والامتناع عن الحرام أولى اهـ وكذا إذا كان على المائدة قوم يغتابون لا يقعد فالغيبة أشد من اللهو واللعب تتارخانية (قوله: ولو على المائدة إلخ) كان عليه أن يذكره قبيل قول المصنف الآتي: وإن علم كما فعل صاحب الهداية، فإن قول المصنف: فإن قدر إلخ فيما لو كان المنكر في المنزل لا على المائدة ففي كلامه إيهام لا يخفى (قوله: بعد الذكرى) أي تذكر النهي ط.

(قوله: فعل) أي فعل المنع وجوباً إزالةً للمنكر (قوله: صبر) أي مع الإنكار بقلبه قال عليه الصلاة والسلام: «من رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان» اهـ أي أضعف أحواله في ذاته: أي إنما يكون ذلك إذا اشتد ضعف الإيمان، فلا يجد الناهي أعواناً على إزالة المنكر اهـ ط وهذا لأن إجابة الدعوة سنة، فلا يتركها؛ لما اقترن به من البدعة من غيره كصلاة الجنازة واجبة الإقامة وإن حضرتها نياحة، هداية، وقاسها على الواجب؛ لأنها قريبة منه؛ لورود الوعيد بتركها، كفاية. (قوله: والمحكي عن الإمام) أي من قوله: ابتليت بهذا مرةً فصبرت، هداية.

(قوله: وإن علم أولاً) أفاد أن ما مر فيما إذا لم يعلم قبل حضوره، (قوله: لا يحضر أصلاً) إلا إذا علم أنهم يتركون ذلك احتراماً له فعليه أن يذهب، إتقاني. (قوله: ابن كمال) لم أره فيه، نعم ذكره في الهداية قال ط: وفيه نظر، والأوضح ما في التبيين حيث قال: لأنه لا يلزمه إجابة الدعوة إذا كان هناك منكر اهـ. قلت: لكنه لا يفيد وجه الفرق بين ما قبل الحضور وما بعده، وساق بعد هذا في التبيين ما رواه ابن ماجه «أن علياً - رضي الله عنه - قال: صنعت طعاماً فدعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فرأى في البيت تصاوير فرجع» اهـ. قلت: مفاد الحديث أنه يرجع ولو بعد الحضور وأنه لا تلزم الإجابة مع المنكر أصلاً تأمل". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200116

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے