بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غصہ میں طلاق دینا


سوال

میں نے جھگڑے کے دوران شدید غصے میں اپنی  بیوی کو طلاق کا لفظ استعمال کیا، اب کیا ہو سکتا ہے؟

جواب

غصہ میں جو طلاق دی جائے وہ واقع ہوجاتی ہے، آپ نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ کتنی مرتبہ طلاق کا لفظ استعمال کیا ہے , اگر ایک مرتبہ لفظِ  طلاق کہا ہے اور پہلے کبھی طلاق نہیں دی  تو اس صورت میں ایک طلاقِ  رجعی واقع ہوگئی ہے، اس طلاق کے بعد عدت (یعنی مکمل تین ماہواریاں)  گزرنے سے پہلے تک شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہے، اگر شوہر تین ماہواری گزرنے سے پہلے رجوع کرلیتا ہے تو ا ن کا نکاح برقرار رہے گا، دوبارہ نئے سرے سے نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر شوہر عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہیں کرتا ہے تو یہ طلاقِ رجعی طلاقِ بائن بن جائے گی اور نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اس صورت میں بیوی کو مزید عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ عدمِ رجوع کی صورت میں وہ  اس ایک عدت کے ختم ہوتے ہی کسی بھی جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی۔

اور  اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا پڑے گا،  البتہ آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔

رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر بیوی سے کہے کہ میں آپ سے رجوع کرتا ہوںابہتر یہ ہے کہ اس پر گواہ بھی بنالے، یہ رجوعِ قولی کہلاتا ہے۔

دو مرتبہ یہ لفظ استعمال کرنے کی صورت میں بھی یہی حکم ہے،  البتہ رجوع یا  دوبارہ نکاح کرلینے کی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ جائے گا۔

 اور اگر تین مرتبہ یہ لفظ کہہ  دیا تو اگرچہ تین طلاق ایک ساتھ دینا شرعاً مکروہ وممنوع ہے، تاہم اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دے تو تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اور بیوی شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے۔ عدت گزرنے کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہوگی۔

 ارشادِ ربانی ہے:

﴿ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ [البقرة: 230]

ترجمہ:اگر بیوی کو تیسری طلاق دے دی  تو جب وہ عورت دوسرے  نکاح  نہ کرلے اس وقت تک وہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی۔ (بیان القرآن)

   الفتاوى الهندية  (1/ 473)
"وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ وَثِنْتَيْنِ فِي الْأَمَةِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا أَوْ يَمُوتَ عَنْهَا، كَذَا فِي الْهِدَايَةِ"
. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200791

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے