بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 اگست 2018 ء

دارالافتاء

 

عورت کے ليے شوہر کے ساتھ تنہائی میں لباس کا حکم


سوال

کیا عورت گھر میں جب کہ وہ اکیلی ہو یا صرف اس کا خاوند ساتھ ہو ، ایسا لباس زیب تن کر سکتی ہے جو عام حالات میں معیوب سمجھا جاتا ہو، مثلاً: جینز کی پینٹ، ٹی شرٹ وغیرہ یا فراک یا چست لباس. جب کہ گھر میں دونوں کے سوا کوئی  موجود نہ ہو، نیز سر بھی ڈھکا نا ہو.

جواب

اپنے شوہر کے سامنے جب میاں بیوی کے علاوہ کوئی اور وہاں موجود نہ ہو عورت ہر طرح کا لباس پہن سکتی ہے، لیکن نیت شوہر کو خوش کرنے کی ہو، کفار اور فساق و فجار عورتوں کی مشابہت مقصود نہ ہو۔ البتہ جب شوہر بھی پاس نہ ہو بالکل تنہائی ہو، وہاں مذکورہ لباس پہننے کی صحیح غرض بظاہر مشکل ہے، اس لیے ایسی حالت میں مذکورہ لباس پہننا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 364 ، ۳۶۶)

''(وينظر الرجل ۔۔۔ من عرسه وأمته الحلال) ۔۔۔ (إلى فرجها) بشهوة وغيرها۔

 (قوله: ومن عرسه وأمته) فينظر الرجل منهما وبالعكس إلى جميع البدن من الفرق إلى القدم ولو عن شهوة، لأن النظر دون الوطء الحلال، قهستاني''۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201511


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں