بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

 عورت کے ایام مخصوصہ میں حج و عمرہ کے مسائل


سوال

 عورت کے ایامِ مخصوصہ میں حج و عمرہ کے مخصوص اور موٹے مسائل بتا دیجیے!

جواب

جس عورت / لڑکی کو حج یا عمرہ کے لیے نکلنا ہو اور اسے حیض آجائے تو اگر اس نے ابھی تک احرام نہ باندھا ہو  تو بھی کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ عورت حالتِ حیض میں بھی احرام باندھ سکتی ہے، حالتِ حیض میں احرام باندھنے کے بعد عورت  کے لیے تمام افعال کرنا جائز ہیں، صرف طواف کرنا اور نماز پڑھنا منع ہے، اس لیے احرام کی نیت کرتے وقت جو دو رکعت نفل نماز پڑھی جاتی ہے وہ نہ پڑھے، بلکہ غسل یا وضو کر کے قبلہ رخ بیٹھ کر احرام کی نیت کر کے تلبیہ پڑھ لے، اب اگر اس عورت نےصرف حج کا احرام باندھا ہے تو چوں کہ حالتِ حیض میں مسجد میں داخل ہونا اور بیت اللہ کا طواف کرنا جائز نہیں؛ اس لیے مکہ مکرمہ پہنچ کر طوافِ قدوم نہ کرے، اگر منیٰ جانے سے پہلے پاک ہوجائے تو غسل کر کے طوافِ قدوم کر لے، اور اگر منیٰ جانے سے پہلےپاک نہیں ہوئی تو طوافِ قدوم چھوڑ دے اور منیٰ چلی جائے، طوافِ قدوم چھوڑنے کی وجہ سے کوئی کفارہ یا دم لازم نہیں ہوگا؛  کیوں کہ طوافِ قدوم فرض یا واجب نہیں ، بلکہ سنت ہے، البتہ دس ذی الحجہ سے بارہ ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے جو طواف کیا جاتا ہے جس کو "طوافِ زیارت" کہتے ہیں، یہ طواف فرض ہے، لہٰذا اگر عورت اس دوران حالتِ حیض میں ہو تو پاک ہونے تک طوافِ زیارت میں تاخیر کرے، پاک ہونے کے بعد غسل کر کے طواف کرے اور چوں کہ یہ تاخیر عذر کے سبب سے ہوئی اس لیے اس تاخیر کی وجہ سے کوئی کفارہ یا دم واجب نہیں ہوگا۔لیکن اگرپاک ہونے تک وہاں رہنے کی اجازت نہیں ملتی ہے یا محرم واپس آرہا ہے تو اسی حالت میں طوافِ زیارت کر لے اور حدودِ حرم میں ایک بدنہ (اونٹ، گائے یا بھینس)  ذبح کرے۔ مکہ مکرمہ سے رخصت ہونے کے وقت جو طواف کیا جاتا ہے وہ طوافِ وداع کہلاتا ہے، یہ طواف واجب ہے، لیکن اگر مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت عورت حالت حیض میں ہو تو اس طواف کو چھوڑ دے، حیض کی وجہ سے طواف وداع چھوڑنے سے کوئی کفارہ، دم یا قضا لازم نہیں ہوگی۔

اگر عورت نے حالتِ حیض میں عمرہ کا احرام باندھا یا احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا، مثلاً: گھر سے مکہ مکرمہ کے لیے نکلتے وقت حیض تھا  اور اسی حالت میں احرام باندھنا پڑا یا احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا تو مکہ مکرمہ جانے کے بعد پاک ہونے کا انتظار کرے اور پاک ہونے کے بعد غسل کر کے عمرہ کرلے.

إعلاء السنن (۱۰ ؍ ۳۱۷ ):

"عن عائشة عن النبي ﷺ قال : الحائض تقضي المناسک کلها إلا الطواف بالبیت. رواه أحمد و ابن أبي شیبة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 290):

"ثم ذكر أحكامه بـ (قوله :يمنع صلاة)  مطلقاً، ولو سجدة شكر، (وصوماً) وجماعاً ... (و) يمنع حل (دخول مسجد و) حل (الطواف) ولو بعد دخولها المسجد وشروعها فيه".

الفتاوى الهندية (1/ 222):

"وإذا أراد الإحرام اغتسل أو توضأ، والغسل أفضل إلا أن هذا الغسل للتنظيف حتى تؤمر به الحائض، كذا في الهداية".

الفتاوى الهندية (1/ 38):

"(ومنها): أنه يحرم عليهما وعلى الجنب الدخول في المسجد سواء كان للجلوس أو للعبور ... (ومنها): حرمة الطواف لهما بالبيت وإن طافتا خارج المسجد . هكذا في الكفاية. وكذا يحرم الطواف للجنب. هكذا في التبيين".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 494):

"(وطاف بالبيت طواف القدوم ويسن) هذا الطواف (للآفاقي)؛ لأنه القادم".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 518):

"(و) طواف الزيارة (أول وقته بعد طلوع الفجر يوم النحر وهو فيه) أي الطواف في يوم النحر الأول (أفضل ويمتد) وقته إلى آخر العمر (وحل له النساء) بالحلق السابق، حتى لو طاف قبل الحلق لم يحل له شيء، فلو قلم ظفره مثلاً كان جناية؛ لأنه لا يخرج من الإحرام إلا بالحلق (فإن أخره عنها) أي أيام النحر ولياليها منها (كره) تحريماً (ووجب دم)؛ لترك الواجب، وهذا عند الإمكان، فلو طهرت الحائض إن قدر أربعة أشواط ولم تفعل لزم دم، وإلا لا.

 (قوله: وهذا) أي الكراهة ووجوب الدم بالتأخير ط (قوله: إن قدر أربعة أشواط) أي إن بقي إلى غروب الشمس من اليوم الثالث من أيام النحر مايسع طواف أربعة أشواط، والظاهر أنه يشترط مع ذلك زمن يسع خلع ثيابها واغتسالها ويراجع. اهـ. ح وعلى قياس بحثه ينبغي أن يشترط زمن قطع المسافة أن لو كانت في بيتها ط. قلت: وبالأخير صرح في شرح اللباب، وذلك كله مفهوم من قول البحر عن المحيط: إذا طهرت في آخر أيام النحر فإن أمكنها الطواف قبل الغروب ولم تفعل فعليها دم؛ للتأخير، وإن لم يمكنها طواف أربعة أشواط فلا شيء عليها اهـ فإن إمكان الطواف لا يكون إلا بعد الاغتسال وقطع المسافة. وفي البحر أيضاً: ولو حاضت بعدما قدرت على الطواف فلم تطف حتى مضى الوقت لزمها الدم؛ لأنها مقصرة بتفريطها اهـ أي بعدما قدرت على أربعة أشواط. زاد في اللباب: فقولهم: "لا شيء عليها لتأخير الطواف" مقيد بما إذا حاضت في وقت لم تقدر على أكثر الطواف أو حاضت قبل أيام النحر ولم تطهر إلا بعد مضيها، لكن إيجاب الدم فيما لو حاضت في وقته بعد ما قدرت عليه مشكل؛ لأنه لا يلزمها فعله في أول الوقت، نعم يظهر ذلك فيما لو علمت وقت حيضها فأخرته عنه، تأمل.

[تنبيه]نقل بعض المحشين عن منسك ابن أمير حاج: لو هم الركب على القفول ولم تطهر فاستفتت هل تطوف أم لا؟ قالوا: يقال لها: لا يحل لك دخول المسجد وإن دخلت وطفت أثمت، وصح طوافك وعليك ذبح بدنة. وهذه مسألة كثيرة الوقوع يتحير فيها النساء. اهـ. وتقدم حكم طواف المتحيرة في باب الحيض فراجعه".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 550):

"(أو طاف للقدوم)؛ لوجوبه بالشروع (أو للصدر جنباً) أو حائضاً (أو للفرض محدثاً ولو جنباً فبدنة إن) لم يعده، والأصح وجوبها في الجنابة، وندبها في الحدث، وأن المعتبر الأول، والثاني جابر له، فلا تجب إعادة السعي، جوهرة. وفي الفتح: لو طاف للعمرة جنباً أو محدثاً فعليه دم ، وكذا لو ترك من طوافها شوطاً؛ لأنه لا مدخل للصدقة في العمرة ... (قوله: بلا عذر) قيد للترك والركوب. قال في الفتح عن البدائع: وهذا حكم ترك الواجب في هذا الباب اهـ أي أنه إن تركه بلا عذر لزمه دم، وإن بعذر فلا شيء عليه مطلقاً. وقيل: فيما ورد به النص فقط، وهذا بخلاف ما لو ارتكب محظوراً  كاللبس والطيب، فإنه يلزمه موجبه ولو بعذر، كما قدمناه أول الباب".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 523):

"(ثم) إذا أراد السفر (طاف للصد) أي الوداع (سبعة أشواط بلا رمل وسعي، وهو واجب إلا على أهل مكة) ومن في حكمهم فلا يجب، بل يندب كمن مكث بعده.

(قوله: إلا على أهل مكة) أفاد وجوبه على كل حاج آفاقي مفرد أو متمتع أو قارن بشرط كونه مدركاً مكلفاً غير معذور، فلا يجب على المكي، ولاعلى المعتمر مطلقاً، وفائت الحج والمحصر والمجنون والصبي والحائض والنفساء، كما في اللباب وغيره". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201555

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے