بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عورت کی ختنہ کا حکم


سوال

کیا عورت کی ختنہ بھی مسنون ہے؟ یا اس کی ختنہ کا حکم مختلف ہے؟ حدیث سے کیا کچھ معلوم ہوتا ہے؟ راہنمائی کیجیے۔

جواب

فقہاء کا اتفاق ہے کہ عورتوں کی ختنہ کروانا کوئی واجبی تاکیدی حکم نہیں ہے، البتہ اس عمل کے سنت یا مستحب ہونے میں فقہاء کا اختلاف ہے، تاہم اتنی بات طے ہے کہ اگر  ختنہ نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ابو داؤد شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کی ختنہ کرنے والی عورت کو یہ تاکید کی تھی کہ زیادہ کھال نہ کاٹا کرے، نیز ایک حدیث  علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ نے نقل کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان منقول ہے کہ: مردوں کی ختنہ مستحب ہے اور عورتوں کی ختنہ باعث عزت ہے۔ہمارے ہاں عورتوں کے ختنے کارواج نہیں ؛کیوں کہ اس کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143807200033

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے