بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 رجب 1440ھ- 26 مارچ 2019 ء

دارالافتاء

 

عورت کا مرد ڈاکٹر سے علاج کرانا


سوال

کسی مرد ڈاکٹر سے علاج کی صورت میں عورت کے لیے پردے کے بارے میں کیا حکم ہے؟  میرا بازو دن با دن بے جان ہوتا جا رہا ہے اور کوئی خاتون ڈاکٹر جو اچھا علاج  کرے نہیں مل رہیں، ایسی صورت میں میں مرد ڈاکٹر سے علاج کروا سکتی ہوں، اور دانتوں کے علاج کے لیےبھی؟

جواب

علاج کی غرض سے عورت کا خواتین یا مرد ڈاکٹر کے پاس جانا جائز ہے، البتہ مرد ڈاکٹر کے سامنے پردہ کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اور اگر خواتین کے علاج یا آپریشن کے لیے خاتون ڈاکٹر میسر ہو تو اس صورت میں مرد ڈاکٹر سے علاج معا لجہ یا آپریشن کروانے کے لیے ستر کھولنے کی اجازت نہیں ہے، بلکہ ایسی صورت میں اگر علاج یا آپریشن کے لیے ستر کھولنا ناگزیر ہو تو خاتون ڈاکٹر سے علاج یا آپریشن کروانا ضروری ہوگا، اورخاتون ڈاکٹر کے سامنے بقدرِ ضرورت ستر کھولنے کی اجازت ہوگی۔

البتہ اگر کسی جگہ خواتین ڈاکٹر موجود نہ ہوں یا موجود تو ہوں، لیکن وہ  ماہر نہ ہوں  اور مرد ڈاکٹر سے علاج معالجہ یا سرجری کروانا ناگزیرہو تو ضرورت کے بقدر مرد ڈاکٹر کے سامنے بھی  جسم کا وہ حصہ کھولنے کی  گنجائش ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب کہ آپ کے علاج کے لیے کوئی ماہر خاتون ڈاکٹر دست یاب نہیں ہے تو آپ اپنے بازو اور دانتوں کا کسی ماہر مرد ڈاکٹر سے علاج کرواسکتی ہیں ، شرعاً اس کی گنجائش ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 330):
"ويجوز النظر إلى الفرج للخاتن وللقابلة وللطبيب عند المعالجة ويغض بصره ما استطاع، كذا في السراجية. ... امرأة أصابتها قرحة في موضع لايحل للرجل أن ينظر إليه لايحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن؛ لأن النظر إلى العورة لايحل بسبب المحرمية، كذا في فتاوى قاضي خان"
. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201259


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں