بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 24 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا گدی پر بالوں کا جوڑا باندھنا


سوال

عورت کے لیے جوڑا بنانا کیسا ہے؟ اونچا جوڑا تو منع ہے اونٹ کے کوہان کی طرح اس میں نماز نہیں ہوتی ہے، کیا بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بنانا ایسے کہ وہ گردن تک رہے یا تھوڑا گردن سے اوپر بنا لیں تو وہ ٹھیک ہے؟ اس میں نماز ہوجاتی ہے یا نہیں ؟

جواب

عورت کے لیے بالوں کو جمع کرکے سر کے اوپر  جوڑا باندھنا جائز نہیں ہے، حدیثِ مبارک میں اس پر وعید وارد ہوئی ہے کہ ایسی عورت کو جنت کی خوشبو بھی نصیب نہیں ہوگی۔ تاہم اگر کسی نے اس طرح جوڑا بنایا اور نماز کی حالت میں وہ بال ڈھکے ہوئے تھے تو نماز  کا فرض ادا ہوجائے گا، اور اگر چوتھائی حصہ سے زیادہ بال کھلے ہوئے ہوں تو نماز ہی نہیں ہوگی۔ باقی عورت کے لیے گدی پر  بالوں کا جوڑا باندھنا جائز ہے، بلکہ حالتِ نماز میں افضل ہے؛ کیوں کہ اس سے بالوں کے پردے میں  زیادہ سہولت ہوتی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 405):
" (وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح. 

(قوله: النازل) أي عن الرأس، بأن جاوز الأذن، وقيد به إذا لا خلاف فيما على الرأس". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں