بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا اذان کے وقت سر پر دوپٹہ رکھنا


سوال

ہمارے ملک بنگلہ دیش میں اس کا بہت رواج ہے کہ عورت خواہ نماز نہ پڑھے، لیکن اذان کے وقت سر پر  دوپٹہ رکھ دیتی ہے، کیا یہ شرعاً صحیح ہے؟ سر کھلا ہو اور کوئی کپڑا نہ ملے تو کوئی لاٹھی؟

جواب

اذان کے وقت سر پر دوپٹہ رکھ لینا اچھی بات ہے، اذان کے احترام اور ادب کی وجہ سے ایسا کیا جاتا ہے،  عورتوں کو عام حالات میں بھی (گھروں میں بھی) سر پر دوپٹہ رکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے، اگر عورت گھر میں ہو اور کسی قسم کی بے پردگی کا اندیشہ نہ ہو اور اذان کے وقت سر پر رکھنے کے لیے دوپٹہ یا چادر دست یاب نہ ہو تو اس کے لیے لاٹھی وغیرہ رکھنے کا تکلف نہیں کرنا چاہیے۔

عاقل بالغ مسلمان پر نماز فرض ہے، نماز کا چھوڑدینا کبیرہ گناہ ہے، اس میں سستی اور کوتاہی کرنا درست نہیں ہے، یہ عقل مندی نہیں ہے کہ الفاظِ اذان کا احترام تو اس درجہ کیا جائے، لیکن مقصدِ اذان  اور اسلامی کے بنیادی رکن سے غفلت برتی جائے، لہذا اذان کے احترام کے ساتھ مقصدِ اذان یعنی نماز کا اہتمام بھی ضروری ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200669

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں