بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد بیوی کا بچوں کا نفقہ نہ لینا / اپنی زندگی میں دوسری بیوی کو جائیداد گفٹ کرنا


سوال

میری اور میری بیوی کے درمیان طلاق 2007 میں ہوئی تھی،میری سابقہ بیوی سے میری 2 بیٹیاں ہیں، طلاق کے ایک سال بعد میں نے بھی دوسری شادی کر لی اور محترمہ نے بھی شادی کر لی تھی اور میری بیٹیوں کو بھی اپنے ساتھ رکھا۔جب سے میں نے اپنے بیٹیوں سے ملنے کی بہت کوشش کی، لیکن میرے سابقہ سسرال والوں اور میری سابقہ بیوی نے مجھے بچوں سے نہیں ملنے دیا۔اور نہ ہی نان نفقہ لیا۔اب میں نے  کسی ذریعے سے ان لوگوں سے دوبارہ رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ایک حلف نامہ دو کہ تم صرف نان نفقہ دو گے، لیکن بچیوں سے نہیں ملو گے؛  کیوں کہ میری بچیاں میری سابقہ بیوی اور اس کے شوہر کے ساتھ  رہتی ہیں؛ اس لیے ان کو ڈر تھا کہ میرے بچوں سے ملنے سے ان کی ازدواجی زندگی میں مسائل ہوسکتے ہیں؛  لہذا میں نے یہ شرط بھی مان لی  اور حلف نامہ بھی دے دیا۔اس کے باوجود انہوں نے نان نفقہ نہیں لیا۔ اور میری بڑی منت سماجت کے بعد میری بچیوں سے11 سال بعد فون پر میری بات کرائی تو میری بیٹیوں نے کہا کہ آپ سے ہم ملنا نہیں چاہتے اور آپ ہمیں دوبارہ فون نہیں کیجیے گا۔

نوٹ۔۔ میری دوسری بیوی سے میرے 3 بچے ہیں جب کہ میری سابقہ بیوی کی دوسری شادی کے بعد کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

سوال نمبر1 : میں نان نفقہ دینا چاہتاہوں، لیکن وہ نہیں لیتے تو کیا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں۔

سوال نمبر 2 : میں نے کچھ دنوں پہلے ایک پراپرٹی خرید کر اپنی دوسری بیوی کو گفٹ کی ہے، کیا اس میں میرے پہلی بیوی سے بچوں کا حق ہے؟

کیا شریعت مجھے اس چیز کی اجازت دیتی ہے کہ میں اپنی زندگی میں اپنی دوسری بیوی کو کوئی مکان ہبہ کروں؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعہ کے مطابق اور درست ہے تو  سائل کی پہلی بیوی اور اس کے گھر والوں کا طرز عمل شرعاً درست نہیں ہے، اس لیے کہ میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد  لڑکیوں  کی نو سال عمر ہونے تک ان کی  پرورش کا حق ان کی والدہ کو ہوتاہے، نو سال کے بعد شرعاً ان کا والد پرورش کا حق دار ہوتا ہے، اور جب بچہ یا بچی والد یا والدہ کی پرورش میں ہو تو  والدہ بچوں کے والد کو اور والد بچوں کی والدہ کو ان سے ملنے سے روک نہیں سکتا۔ نیز اگر بچہ کی والدہ  بچوں کے حق میں کسی نامحرم شخص سے شادی کرلے تو اس کی پرورش کا حق بھی ختم ہوجاتا ہے، ان سب باتوں کے تناظر میں آپ کو اپنی بیٹیوں سے ملنے نہ دینا شرعاً درست نہیں تھا، بچیوں کی عمر نو سال ہونے کے بعد بیٹیوں کی پرورش کا حق بھی آپ کو حاصل ہے؛  لہذا اب اگر آپ کی بیٹیوں کی عمر نو سال ہوچکی ہے  اور وہ نابالغ ہیں تو آپ کے لیے ان کو اپنی پرورش میں لینے کا حق ہے، اور اگر وہ بالغ ہوچکی ہیں اور فتنہ کا اندیشہ ہو تو تب بھی ان کو اپنے پاس رکھ ان کی حفاظت، اور تربیت کرنا  ضروری ہوگا۔

باقی جہاں تک نفقہ کا تعلق ہے تو اگر آپ کی بیٹیوں کے پاس اپنا مال نہیں ہے تو ان کا نفقہ ان کی شادی ہوجانے تک آپ کے ذمہ لازم ہے، تاہم جو گزشتہ سالوں کا نفقہ انہوں نے وصول نہیں کیا اب وہ اس کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔

1۔۔  اگر آپ کی بیٹیوں کے پاس اپنا کوئی مال نہیں ہے، اور آپ ان کا نفقہ ادا کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ لینے کے لیے تیار نہیں تو اس صورت میں آپ گناہ گار نہیں ہوں گے۔

2۔۔  زندگی میں ہر شخص اپنی جائیداد کا تن تنہا مالک ہوتا ہے، وہ اس میں جس طرح چاہے جائز تصرف کرسکتا ہے، لہذا اگر آپ نے اپنی دوسری بیوی کو مکان گفٹ کیا اور اس کا قبضہ اور تصرف بھی اس کو دے دیا ہے تو وہ اس کی مالک بن گئی ہے، اب اس میں کسی اور حق وحصہ نہیں ہوگا۔

نیز اگر آپ اپنی دوسری اولاد کو ضرر ونقصان پہنچانے اور ان کو محروم کرنے کے قصد کے بغیر  اپنی زندگی میں اپنی  دوسری بیوی کو کو ئی مکان ہبہ کریں تو شرعاً اس کی ممانعت نہیں ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ونفقة الإناث واجبة مطلقاً على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة".  (1/563، الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي نَفَقَةِ الْأَوْلَاد، ط: رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے: 

"(قضى بنفقة غير الزوجة) زاد الزيلعي والصغير (ومضت مدة) أي شهر فأكثر (سقطت) لحصول الاستغناء فيما مضى.

(قوله: زاد الزيلعي والصغير) يعني استثناه أيضاً فلاتسقط نفقته المقتضى بها بمضي المدة كالزوجة، بخلاف سائر الأقارب. ثم اعلم أن ما ذكره الزيلعي نقله عن الذخيرة عن الحاوي في الفتاوى، وأقره عليه في البحر والنهر وتبعهم الشارح مع أنه مخالف لإطلاق المتون والشروح وكافي الحاكم.

مطلب في مواضع لايضمن فيها المنفق إذا قصد الإصلاح. وفي الهداية: ولو قضى القاضي للولد والوالدين وذوي الأرحام بالنفقة فمضت مدة سقطت؛ لأن نفقة هؤلاء تجب كفاية للحاجة حتى لاتجب مع اليسار وقد حصلت بمضي المدة، بخلاف نفقة الزوجة إذا قضى بها القاضي؛ لأنها تجب مع يسارها فلاتسقط بحصول الاستغناء فيما مضى. اهـ وقرر كلامه في فتح القدير". (3 / 633،  باب النفقہ، ط:سعید)

         وفیہ ایضا:

"اعلم أن نفقة الزوجة لاتصير ديناً على الزوج إلا بالقضاء أو الرضا، فإذا مضت مدة قبل القضاء أو الرضا سقطت عنه والمراد بالمدة شهر فأكثر، وكذا نفقة الولد الصغير الفقير، وأما نفقة سائر الأقارب فإنها تسقط بالمضي، ولو بعد القضاء أو الرضا إلا إذا كانت مستدانةً بأمر قاض، فلاسقط بالمضي هذا حاصل ما قدمه الشارح في النفقات. لكن ما ذكره من كون الصغير كالزوجة نقله هناك عن الزيلعي، وقدمنا هناك أنه مخالف لإطلاق المتون والشروح ولما صرح به في الهداية والذخيرة وشرح أدب القضاء والخانية من أن نفقة الولد والوالدين والأرحام إذا قضي بها ومضت مدة سقطت".  (5/ 390، فصل فی الحبس، کتاب القضاء، ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200457

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے