بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد بچوں کا حق دار کون ہے؟


سوال

میں مستبین رضاخاں ولد حافظ حامدرضاخاں ، شناختی کارڈ نمبر(4220160243913)، پاکستان کا امن پسندشہری ہوں،عرض یہ کرنا ہے کہ میری پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ میں جاب ہے اور میری پوسٹنگ کراچی سے باہر ہوتی ہے۔میں نے گھر کاسسٹم چلانے کے لیے ایک گاڑی خریدی اور اپنے نام سے رجسٹرڈکرائی، گاڑی کا نمبر ہے AMC 846 Toyota Platz گاڑی خریدنے کے بعد میں نے ایک ڈرائیور رکھا،بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لیے،یہ بات جولائی ۲۰۱۶؁ کی ہے ۔میں ایک بات بتاتا چلوں کہ میری شادی خاندان میں نہیں ہوئی اور میں پہلے سے ان لوگوں کو جانتا نہیں تھا، میرا تعلق تبلیغِ دین سے رہا ہے اور میں نے تبلیغ میں چار ماہ لگائے ہوئے ہیں، جس وقت میری شادی ہوئی،اس وقت میں سعودی عرب کی ایک بڑی گورنمنٹ آرگنائزیشن میں جاب کرتا تھا، میں دو سال گزارنےکے بعد چھٹی پر سعودی عرب سے پاکستان آیا، میں نے اپنے گھر والوں سے اپنی شادی کا اظہار کیا۔ میر ی بڑی بہن نے کہا کہ میرے پڑوس میں ایک خاندان رہتا ہے جن کی بیٹی عالمہ بن رہی ہے، میں نے گھروالوں کو کہا کہ جاکردیکھ لیں، گھر والوں نے جاکر دیکھا، مگرعالمہ اور حافظہ ہونے کی وجہ سے کوئی تحقیقات نہیں کیں اور اس رشتے پر رضامندی کا اظہارکردیا،جب کہ دوسری طرف سےآدھے گھنٹے میں رشتہ منظورہوگیا، اور پھر میرا نکاح ان خاتون سے ہوگیا۔میرا پورا خاندان ان کومذہبی سمجھ کر ان کے آگے بچھاجارہاتھا۔ پھر نکاح کے دودن بعد میں دوبارہ سعودی عرب آگیا.پھر ایک سال کے بعد رخصتی ہوئی سعودی عرب مکہ میں.مگر افسوس کہ ساتھ رہنے پر پتا چل گیا کہ خاتون میں مسئلہ ہے جسے ان کے گھروالوں نے سب سے چھپایا، وہ خاتون غصے کی بہت تیزتھیں، روتی دھوتی رہتی تھیں،اور برقعہ پہن کر گھر سے باہر بھاگنے کی کوشش کرتیں،ذرا ذرا سی بات پرناراض ہوجاتیں ،کئی دفعہ میں نے وہاں سعودیہ میں بھی اور یہاں بھی ان کوخودکشی سے روکا، ان کے گھروالوں سے جب پھرپوچھاگیاتو جھوٹ بات بنانے لگے کہ پہلے ایسی نہیں تھی، بلکہ سعودیہ جاکرایسی ہوگئی تھی۔یعنی اپنے آپ کوسچّا اور مجھےغلط ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ،پھر میرے گھروالوں نے محلے میں تحقیق شروع کی تو پتا چلا کہ یہ عورت مزاج کی شروع سے ایسی تھی ،بہت جنونی ہے اور خودکشی کرنے کی کوشش پہلے بھی کرچکی ہے۔بہرحال میں پریشان ہوکر اسے سعودیہ سے لے آیااور میرا اس رشتے کو نبھانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،مگر اس خاتون کے رونے دھونے پر میرا ارادہ بدل گیااور میں نے رشتہ نبھانے کاقصد کیااور سعودیہ جانے کاارادہ بھی ترک کردیا۔ مگر کیوں کہ اس خاتون کا مزاج عجیب وغریب تھا، میرے گھروالوں کے ساتھ اس کا گزارہ نہ ہوسکا، پھر مجبوراً اس رشتےکو نبھانے کے لیے مجھےگھرداماد بنناپڑا، مگر اس کے میری زندگی پر بہت منفی اثرات پڑے کہ ایک تو میری ایک اچھی نوکری چھوٹ گئی تھی دوسرے میں اپنے خاندان والوں سے کٹ گیا تھا۔میں جس وقت سعودیہ گیاتھا اس وقت ہماری فیلڈ سول انجینیرنگ کےحالات پاکستان میں اچھے نہیں تھے،اور وہ جاب قسمت سے اچھی ملی تھی۔پاکستان آنے کے بعد بھی ہماری فیلڈ میں جابز نہیں تھیں، جو لوگ گلف یا سعودیہ وغیرہ میں سیٹ ہوجاتے ہیں وہ شاذونادر ہی پاکستان آتے ہیں، کیوں کہ وہ حالات کی وجہ سے پاکستان میں سیٹ نہیں ہوسکتے، بہرحال پاکستان میں میری جاب پرائیویٹ کمپنی میں لگتی رہی اور چھوٹتی رہی جس کی وجہ سے بھی میں شدید مشکلات کاشکار رہا۔ مگر اللہ کے فضل و کرم سے میرے اکاؤنٹ میں اتنے پیسےہوتے تھے کہ گزارا ہوجاتا تھا،میری بیوی بڑی فضول خرچ اور بے جافرمائش کرنے والی عورت نکلی،غصے کی تیز،جنونی اور اپنی بات کو زور زبردستی منوانا جانتی تھی.اپنی بات کو منوانے کے بہت میٹھابن کربھی دکھاتی تھی،وہ سب اس کا ڈھونگ نکلا.اس نے مدرسہ پڑھا مگر اس کے گھر کاماحول کوئی مدرسے والا نہیں تھا،اس کے گھر میں ڈنڈےکے زور والا اسلام تھا،اس رشتے سے پہلے اس کے والد نے اپنے آپ کو تبلیغی ظاہر کیا، مگر سب کچھ اس کے برعکس نکلا۔بچوں کو بے تحاشہ مارتی تھی،بات بے بات پر ناراض ہوجاتی تھی،اور کمرے کی کنڈی اندر سےبند کرکےبیٹھ جاتی تھی جس سے مجھے کافی ٹینشن ہوتی تھی۔اور اس کو اپنی جائز ناجائزبات منواناآتی تھی۔ اس کے والد غصے کے بہت تیز،جنونی آدمی ہیں،بقول اس عورت کے ماضی میں لوگ ان کے ہاتھ سے قتل ہوتےہوتےبچے ہیں اور ایک واقعہ بھی سناتی ہیں،گھر میں بھی انہوں نے گھریلوتشدّدکا ماحول بنایا ہوا ہے، ایسے ماحول میں بچوں کی کوئی تربیت نہ ہوسکی۔ان سب کے باوجود اس کے والد علاقے کی مؤثر شخصیت بنے ہوئے ہیں اور ان کی تعریف کرنے والوں کا حلقہ ان کےاردگرد رہتاہے۔اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ اور پھرانہوں نےجلدی جلدی سب بیٹیوں کی شادیاں کردیں،ان کی بڑی بیٹی میرےنکاح میں آئیں، ان کا کیس سب سےزیادہ خراب تھا،اس رشتے کو میں نے انسانی ہم دردی کی خاطرہر طرح نبھانے کی کوشش کی،میرا بہت مالی نقصان بھی ہوا اور میں اپنا کوئی گھربھی نہ بناسکا،جب کہ وہ عورت میرے اوپر حاوی ہوکر رہتی تھی،میرا کچھ بچنے نہیں دیتی تھی،اپنے غصّے اور جنون میں اس نے تین دفعہ میرے موبائل توڑے اور دو دفعہ میرے کرتے پھاڑے کہ میرے گھروالوں سے میری شکایت کیوں کی؟ لہٰذا اس کے رویے کی شکایت نہ میں اس کے گھروالوں سے کرسکتاتھااور نہ اپنے گھروالوں سے.کیوں کہ اس کا نتیجہ بہت برانکلتاتھا اور بھگتنا مجھے ہی پڑتا تھا،یہ لوگ جھوٹ بہت بولتے ہیں جس کی مجھے شدید تکلیف ہوئی۔

ابھی موجودہ صورت حال یہ ہےکہ وہ ڈرائیورجس کو میں نے رکھا اس کو اس نے مجھ سے اصرارکرکے گھرکے اندر بلوالیا،ایک بات بتاؤں کہ گھر میرا نہیں تھا، بلکہ اس کے والد نے اس کے نام کروایااور مجھ سے اس کی مد میں چھ لاکھ روپے لیے،گھر خریدنے کی یہ بات ؁۲۰۱۱ء کی ہے.لہٰذا میں اس کو منع نہیں کرسکتاتھا؛ کیوں کہ اس کامزاج بھی عین غین تھا۔ اس شخص کانام امجد احمد خان ہےاور وہ عورت اس کے عشق میں مبتلا ہوگئی، میں نے کئی ایسے مناظر دیکھے جو میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئے، مگر میں کر کچھ نہیں سکتاتھا، کیوں کہ بےبس تھا. وہ عورت جو میرے تین بچوں کی ماں ہے وہ اس ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھ کر خوب میک اپ کے ساتھ جاتی تھی،ایک دفعہ میں نے اس کو اس کے سر میں کنگھاکرتے ہوئے دیکھا، باتھ روم میں اس امجد کے گندے کپڑے لٹکے ہوئے دیکھے، ان دونوں کے شرم کے کپڑے لٹکے ہوئے دیکھے، وہ آدمی اس عورت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا تھا۔میں بہت بے بس تھا، کیوں کہ ایک تو اس عورت نے مجھ سے اپنےماں باپ کی برائی کرکے ان سے دور کردیاتھا اور اپنے ماں باپ کو مجھ سےدور کردیاتھا، اس طرح اس عورت نے اپنے لیے ایک راستہ بنایا۔گھرمیں کیاہورہاتھا مجھے بہت دیر سے پتا چلا۔ پر اس نے آئی ڈی اس کے نام کےساتھ بنائی ہوئی تھی۔i-cloud ذرا ملاحظہ ہو: اس شخص کی مجھ سے بے جا تعریف کی گئی کہ آپ کے بچوں کو امجد آپ کے پیچھے بہت اچھی طرح سنبھالتاہے،اور بہت اچھےخاندان کا ہے۔کاروبار کرنےکے بھی طریقے اچھی طرح جانتاہے،پھر ہرچیز میں وہ امجد کی تعریف کرنے لگی۔ان دونوں کےرہن سہن سے مجھے اندازا ہونے لگا کہ دونوں کی آپس میں کوئی ملی بھگت ہےاور مجھ سےبات چھپائی جارہی ہے۔میری پوسٹنگ شہدادپور میں تھی،جب کہ یہ امجد ایک میرافون نہیں اٹھاتاتھا۔دونوں ایسے خوش فہمی میں نظرآنے لگے کہ مستبین صاحب ہم دونوں کےلیے اپنا سب کچھ باآسانی چھوڑدیں گے۔اس شخص کوڈرائیور رکھنے کے بعدمیرابنک اکاؤنٹ بہت تیزی سے خالی ہوا۔ اس عورت نے اس امجد کے گھر اور خاندان پر بہت فضول خرچی کی جس کاعلم مجھےباوثوق ذرائع سے ہوا۔ یہ سب مناظر میرےلیے ناقابل برداشت ہوگئے۔ تو پھر میں نے بڑے بزرگوں کے مشورے سے اسےطلاق دے دی.وہ ابھی اپنےباپ کے گھربی۔۱۴۰سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوھر میں میرے تینوں بچوں کےساتھ ہے،انہوں نے الٹاکورٹ میں مقدمہ کردیا ہے اور ہر بچے کے عوض پچاس ہزار ماہانہ یعنی کل ڈیڑھ لاکھ روپے کامطالبہ کررہے ہیں،میری گاڑی ان کے قبضے میں ہےاور وہ گھر جو اس عورت کے نام ہے جس کاایڈریس اے ۵۰۳،ونڈرٹاور گلشن اقبال بلاک ۱۱ہے، میں میرا خریدا ہو نوے فی صد سامان ہے۔ اس رشتے کا ایک بڑا المیہ یہ رہاکہ میں اس عورت کےشاہانہ خرچ کی وجہ سے اپنی ماں اور دوغیر شادی شدہ بہنوں کو مالی طور پر سپورٹ نہیں کرسکا۔ وہ عورت پچھلے چھ ماہ سے میرے قریب نہیں آئی اورجھوٹ بات بناتی رہی.جب کہ وہ اپنے منہ بولے بھائی اور دوست کی ہر طرح خدمت کرتی رہی، اس کے بچے کو بھی گھر میں رکھ لیا، تاکہ اس کو گھیرنا اور آسان ہو۔ یہ لوگ میری غیر موجودگی میں حیدرآباد بھی گئے، وہاں ہوٹل میں کمرے بک کروائے گئے، ابھی مجھے پتا لگا ہے  کہ وہاں کچھ ہوٹل ہیں جوفحاشی کامرکز بنے ہوئے ہیں۔

ان سب باتوں سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ وہ آدمی اس کام کا پرانا کھلاڑی ہے  ورنہ میرے بچوں کی اماں کو کیسے پتا چل گیا؟ وہ عورت اکثر تذکرہ کرتی کہ میرے ابو میری امی پر ایسےایسے ظلم کرتے تھے اور دو دفعہ طلاق بھی دےچکے ہیں پھر رجوع کیاہے۔ اس عورت کے گھروالوں نے اس عورت کوبہت پکاکیاہواتھاکہ شوھر سے کیسےاپناحق نکلوانا ہے۔ میں اپنی ماں بہنوں کو سپورٹ کرتا ہوں اور میرا کوئی گھر بھی نہیں ہے،میں مزید کسی کےظلم میں نہیں آؤں گا۔تمام خرچے نکال کر بچوں کے لیے ۳۵ہزار سے زیادہ نہیں بنتے،لہٰذا ان لوگوں کا ڈیڑھ لاکھ روپوں کا بچوں کے ماہانہ اخراجات کامطالبہ سراسر ظلم پرمبنی ہے۔ میرے بنک کا اے ٹی ایم کارڈ اس عورت کے پاس تھا وہ اکاؤنٹ سے بے دھڑک پیسے نکالتی تھی اور نہ جانے کہاں کہاں خرچ کرتی تھی،ثبوت کے لیے دوسال کے بنک اکاؤنٹ نکلوائے جاسکتے ہیں۔ طلاق کے بعد اس عورت کا باپ لوگوں سے کہتا پھر رہاہے کہ مستبین نوکری چھوڑ چھوڑ دیتا تھااور میں اسے نوکری پر لگواتا تھا،یہ ان لوگوں نے اپنے آپ کو سیف سائڈ میں رکھنے کے لیے سراسر جھوٹ بات بنائی۔ میرے بچے اس ڈرائیور امجد احمد خان جو کہ آر۔۷۱بلوچ سوسائٹی گلستان جوھر کارہائشی ہے  کو چاچو کہہ کرپکارتے ہیں،بچوں کو مجھ سے دور اور اس شخص سے قریب کردیاگیا۔ میری وہ بیوی باتوں باتوں میں اکثر کہتی تھی کہ اگر میں آپ کو چھوڑدوں تو؟پھر خود ہی کہتی کہ آپ کو میں ایسے نہیں چھوڑوں گی اپنے آپ کو سیٹ کرنا شروع کریں اور جب آپ سیٹ ہوجائیں گے تو آپ کو چھوڑ دوں گی. اور اکثر یہ بھی کہتی کہ ہم اچھے سے بھی الگ ہوسکتے ہیں، اس طرح سے کہ نہ میرے گھروالے آئیں اور نہ آپ کے گھروالے آئیں، اور ہم ایک دوسرے کو چھوڑ دیں،ہاں البتہ میں بچوں سے میں ملنے دوں گی۔ یعنی وہ بڑی چالاک عورت تھی اور اس طرح کا پلان بنارہی تھی۔ اس کو اپنے ماں باپ سے شدید اختلافات تھے جس کا وہ اکثر اظہار کیا کرتی تھی کہ میرے ماں باپ بھی میرے اپنے نہیں۔ وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ عورت کا انتقام بہت سخت ہوتا ہے،گویا کہ اس کےدماغ میں شادی سے پہلے سے ایک چیز بیٹھی ہوئی تھی کہ دنیا کےتمام مرد بہت ظالم ہوتے ہیں، مگر اس کو اپنامطلب نکلوانا بہت اچھی طرح آتاتھارو دھوکراور مختلف طریقوں سے۔جس سے اندازا ہوتاہے کہ بہت چالاک عورت تھی۔ میں چاہتاہوں کہ میرے بچے میری گاڑی اور فلیٹ کی مد میں خرچ کی گئی رقم موجودہ شرح کے حساب سےاور گھرکاکل خریدا ہوا سامان اور وہ ڈرائیور جس کو وہ اپنا دوست کہنے لگی اسےدی گئی قرضے کی بقایارقم دولاکھ چالیس ہزار مجھے مل جائیں اور اس استحصالی عناصر سے میری جان چھوٹ جائے۔ میرے بچے مجھے چاہییں، میں ان کااصل سرپرست ہوں وہ عورت ان بچوں کی کوئی صحیح تربیت نہیں کررہی ہے۔یہ میں ہی جانتا ہوں۔

یہ جو کچھ ہورہاہے میرے لیے بہت تکلیف کی بات ہے۔ وہ لوگ مجھ کو میرے بچے دیں ، میں اس عورت کو اس کے بچوں سے ملنے دوں گا۔ویسے بھی وہ شادی کرلےگی توبچوں کی پرورش میں اور مشکل ہوجائے گی۔جب کہ میری اس عورت کے ساتھ اب کوئی بھی ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوسکتی،اور یہ سب باتیں میں نے بہت کم بتائیں ہیں ،میں نے بہت تکلیف دہ زندگی گزارلی۔اب میں اپنی ماں اور بہنوں کے لیے بھی کچھ کرنا چاہتا ہوں۔میری زندگی کے ۱۴ سال بڑی آزمائش میں گزرگئے۔ میری رہنمائی فرمائیےکہ مجھےکیاکرناچاہیے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے لڑکوں کی عمر جب سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہوجائے گی تو سائل کو اپنی اولاد لینے کا شرعی حق ہوگا اور شرعاً والد سے اولاد چھیننے کا کسی کو حق نہ ہوگا، نیز جب تک بچوں کی عمر سات سال اور بچیوں کی عمر نو سال نہیں ہوجاتی ماں انہیں اپنی پرورش میں رکھ سکتی ہے بشرطیکہ وہ دوسری جگہ شادی نہ کرلے، پس اگر اس نے شادی کرلی تو ماں کا حق ساقط ہوجائے گا ، اسی طرح سے اگر ماں فسق و فجور و حرام کاری کے راستہ پر ہو تو اس صورت میں بھی بچوں کی پروش کا حق ساقط ہو جائے گا اور بچوں کی نانی کو مقررہ عمر مکمل ہونے تک اپنے پاس رکھنے کا حق ہوگا، البتہ اگر نانی وفات پاگئیں ہوں تو بچے دادی کی پرورش میں رہیں گے ، بہر صورت بچوں کے نفقہ و دیگر اخراجات کی ذمہ داری باپ یعنی سائل پر ہوگی اور حسبِ استطاعت خرچہ کرنا سائل پر لازم ہوگا اور استطاعت سے زائد خرچہ کا مطالبہ سابقہ بیوی کی جانب سے کرنا شرعاً درست نہیں۔

سائل کی گاڑی کا اصل حق دار سائل ہی ہے وہ اپنی گاڑی شرعاً و قانوناً واپس لے سکتا ہے۔

گھر کی خریداری کے لیے سائل نے اپنے سسر کو مذکورہ رقم اگر بطور قرض دی تھی تو وہ رقم واپس کرنا سائل کے والد پر شرعاً لازم ہے اسی طرح سے دیگر رقم جو بطور قرض دی ہو وہ واپس لینے کا سائل حق دار ہے۔

گھر کا وہ تمام سامان جو سائل نے خریدا ہو وہ بھی واپس لے سکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200246

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے