بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1440ھ- 16 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

صنان نام رکھنے کا حکم اور معنی


سوال

میں اپنے بیٹے کا نام "صنان"  رکھنا چاہتا ہوں، کیا یہ نام رکھنا صحیح ہے؟

جواب

صُنَان (ص کے پیش اور ن کے زبر کے ساتھ)اس کا معنی ’’بدبو‘‘کا ہے، اس تلفظ کے ساتھ یہ نام رکھنا درست نہیں ہے۔

اور صَنَّان (ص کے زبر اور ن کے زبر اور تشدید کے ساتھ)اس کامعنی ہے ’’بہادر‘‘۔ اس تلفظ کے اعتبار سے نام رکھنا تو درست ہے، مگر عام لوگ تلفظ کا خیال نہیں کرتے؛ اس لیے بہتر یہ ہے کہ یہ نام نہ رکھیں۔آپ چاہیں تو "صنان"  کے بجائے "سِنَان" (یعنی س کے زیر اور نون کے زبر بلاتشدید کے ساتھ)  نام رکھ سکتے ہیں۔(القاموس الوحید ص:947)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201480

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے