بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے اور پڑھانے کا حکم


سوال

ہمارے ہاں ایک صاحب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو برملا برا بھلا کہتے تھے۔اور انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے، وہ مر گئے تو ان کی نمازِ جنازہ سنی شخص نے پڑھائی۔سوال یہ ہے کہ ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھنا پڑھانا کیسا ہے ؟ جن لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی کیا ان کا نکاح باقی ہے ؟ اور اگر نکاح فاسد ہو گیا ہے تو کیا صورت ہو گی ؟

جواب

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے والا شخص فاسق اور اہلِ سنت و الجماعت سے خارج ہے، لیکن اسلام سے خارج نہیں ہے؛  اس لیے اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور پڑھاناجائز ہے، اس سے کسی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، تاہم ایسے افراد کی نمازِ جنازہ میں مقتدا لوگوں کو شرکت نہیں کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ مذکورہ حکم اس وقت ہے جب کوئی شخص ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو صرف برا بھلا کہے، لیکن اگر کوئی شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھے تو وہ اسلام سے خارج ہوجائے گا؛کیوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی خود اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں بیان کی ہے، لہٰذا آپ پر تہمت لگانا  قرآن پاک کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ ایسے شخص کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور پڑھانا بھی جائز نہیں ہوگا، اور عقائد کا علم ہوتے ہوئے جان بوجھ کر جائز سمجھتے ہوئے ایسے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنے والوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر توبہ اور تجدیدِ ایمان کے ساتھ تجدید نکاح بھی کرے، البتہ اگر کوئی شخص ان کے عقائد سے مطلع نہ ہو یا مطلع ہونے کے باوجود ناجائز سمجھتے ہوئے کسی لالچ کی وجہ سے یا سیاسۃً و رسماً پڑھے تو وہ دائرہ اسلام سے تو خارج نہیں ہوگا، لیکن ایک حرام فعل کے ارتکاب کی وجہ سے اس کے فاسق و فاجر بننے میں کوئی شک نہیں ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 46)

"وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر؛ لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل علياً أو يسب الصحابة؛ فإنه مبتدع لا كافر، كما أوضحته في كتابي "تنبيه الولاة والحكام علی أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام".

''فنقول: لایصلی علی الکافر …؛ لأن الصلاة علی المیت دعاء واستغفار له، والاستغفار للکافرحرام ''…الخ (المحیط البرهاني: ٨٢/٣ )

"(وشرطها) ستة ( إسلام المیت وطهارته)".

وفي ردالمحتار: (قوله: وشرطها) أي شرط صحتها''…الخ ( الدرالمختار مع ردالمحتار:٦٤٠/١)
''ومنها: أن استحلال المعصیة صغیرةً کانت أوکبیرةً کفر''…الخ (شرح فقه الأکبر : ١٥٢)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202114

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے