بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

شید جلن اور دل خراب ہونے کی بنا پر ہونے والی ناقابلِ برداشت تکلیف کی وجہ سے روزہ توڑنے کا حکم


سوال

میری بیوی نے روزہ رکھا، لیکن اچانک سے اس کو شدید جلن شروع ہو گئی اور دل خراب ہونے لگ گیا۔اور کہنے لگی جلن بہت زیادہ ہے اور ساتھ میں وہ بچی کو فیڈ بھی کرواتی ہے۔ میرے پوچھنے پر کہ تکلیف برداشت کر لو گی اور روزہ پورا کر لو گی تو کہتی ہے کہ برداشت نہیں ہو رہی ابھی تکلیف۔اس لیے روزہ توڑنا پڑا۔ اب شریعت کے مطابق  کیا کرنا چاہیے؟

جواب

اگر آپ کی بیوی نے شدید اور ناقابل برداشت تکلیف کی وجہ سے روزہ توڑا ہے تو ان کے ذمہ رمضان کے بعد صرف اس روزے کی قضا لازم ہے،  کفارہ لازم نہیں ہے۔ نیز اگر مذکورہ کیفیت میں روزہ نہ توڑنے سے بچی کے دودھ پر اثر پڑنے کا اندیشہ تھا تو بھی روزہ توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم نہیں ہوگا، صرف قضا لازم ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 421):

"فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم، وقد ذكر المصنف منها خمسة، وبقي الإكراه وخوف هلاك أو نقصان عقل ولو بعطش أو جوع شديد ولسعة حية (لمسافر) سفراً شرعياً  ولو بمعصية (أو حامل أو مرضع) أما كانت أو ظئراً على ظاهر (خافت بغلبة الظن على نفسها أو ولدها) وقيده البهنسي تبعاً لابن الكمال بما إذا تعينت للإرضاع (أو مريض خاف الزيادة) لمرضه وصحيح خاف المرض، وخادمة خافت الضعف بغلبة الظن بأمارة أو تجربة أو بأخبار طبيب حاذق مسلم مستور ... (الفطر) يوم العذر إلا السفر كما سيجيء، (وقضوا) لزوماً (ما قدروا بلا فدية و) بلا (ولاء)؛ لأنه على التراخي، ولذا جاز التطوع قبله بخلاف قضاء الصلاة.

فصل في العوارض : جمع عارض، والمراد به هنا ما يحدث للإنسان مما يبيح له عدم الصوم كما يشير إليه كلام الشارح (قوله: المبيحة لعدم الصوم) عدل عن قول البدائع: المسقطة للصوم؛ لما أورد عليه في النهر من أنه لايشمل السفر، فإنه لايبيح الفطر وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم، وكذا إباحة الفطر لعروض الكبر في الصوم فيه ما لايخفى.

(قوله: خمسة) هي السفر والحبل والإرضاع والمرض والكبر وهي تسع نظمتها بقولي:

وعوارض الصوم التي قد يغتفر ... للمرء فيها الفطر تسع تستطر                                          حبل وإرضاع وإكراه سفر ... مرض جهاد جوعه عطش كبر". 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201424

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے