بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی زندگی میں بیوی کا جائیداد کا مطالبہ / بچہ کو گود لے کر اس کی پرورش کرنا


سوال

میں نے بجلی کے محکمہ میں رہتے ہوۓ وقت سے پہلے پینشن لے لی، میری شادی ایک محترمہ سے تقریباََ تیس برس پہلے ہوئی تھی، نوک جھونک کے ساتھ زندگی گزر رہی تھی، اولاد ہے نہیں،  ایک سگی  بہن کے بچے کو جس کی والدہ فوت ہو گئی تھیں ساتھ رکھا تھا،  بچپن میں ہی بیوی نے اس بچے کو بھگانے کی ضد کی، مگر میں نے اسے اپنے چھوٹے بھائی کے پاس رکھ کر اُس کی تعلیم و تربیت کی، اور الحَمدُ للّہ اب اُس کی شادی بھی ہونا ہے، لیکن میری بیوی اس بچے کے شادی میں بھی رخنے ڈال رہی ہے ۔

میری بیوی موقع بہ موقع لڑائی جھگڑا کرتی رہتی ہے، میں اپنی پینشن میں سے بیوی کو پورا خرچ اٹھاتے ہوۓ گیارہ ہزار اور جو مکان کا کرایہ آتا ہے وہ سب ملاکر پندرہ ہزار روپے ماہانہ ادا کر رہا ہوں ۔ میں نے دورانِ ملازمت اپنے فنڈ میں سے رقم نکال کر زمین خریدی جو کہ  بیوی کے نام ہے ۔ ایک مکان ہے جس میں میں رہتا ہوں، وہ میرے ہی  نام ہے ، اب بیوی بضد ہے کہ مکان اُس کے نام کیا جائے۔

میں بیوی کی روز مرہ  کی زیادتیوں اور نئی نئی رقم اور جائے داد کی ضد کی وجہ سے اب اسے آگے صرف خرچ جاری رکھتے ہوئے  جائے داد  میں سے اور  کسی قسم کی نقدی میں سے اور  پینشن  میں سے کچھ  بھی دینا نہیں چاہتا،  بلکہ اُن کے نام جو زمین ہے وہ بھی نہیں دینا چاہتا، اور انہیں اپنی زوجیت سے الگ بھی نہیں کرنا چاہتا ۔ بیوی مجھے برابر برابر طلاق دے دینے کے لیے کہتی رہتی ہیں۔

مندرجہ بالا حالات میں زید کیا کرے؟ اگر نکاح میں رکھتے ہوئے  ہی بیوی کو موجودہ جائے داد  میں سے دینا ہو تو اس کا شریعت کے حساب سے کیا حصہ دیا جائے ؟  اور زید اپنی جائے داد  میں سے اپنی زندگی میں ہی کیا شریعت کی رُو سے اپنی مرضی سے کسی کو بھی کچھ بھی دے سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائے داد  کا خود مالک  ومختار ہوتا ہے، وہ ہر جائز تصرف اس میں کرسکتا ہے، کسی کو یہ حق نہیں  ہے کہ اس کو اس کی اپنی ملک میں تصرف  کرنے سے منع کرے ،نیز شوہر  کی زندگی میں بیوی  وغیرہ کا اس کی جائے داد میں   کوئی حق  و حصہ  نہیں  ہوتا،  اور نہ ہی اس کو مطالبہ کا حق حاصل  ہوتا، لہذا بیوی کا شوہر کی زندگی میں اس کی جائے داد  میں سے مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے، ہاں اگر خوشی سے کچھ دینا چاہے تو  دے سکتا ہے،  اور اپنی زندگی میں جو جائے داد  تقسیم کی جائے  وہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے۔

زمین خرید کر اگر صرف بیوی کے نام کی ہے، اسے مکمل تصرف واختیار نہیں دیا تو ہبہ (گفٹ) شرعاً مکمل نہیں ہوا، اس لیے یہ زمین بھی آپ کی ملکیت ہے، اس میں مکمل تصرف کا آپ کو حق حاصل ہے۔ اور اگر نام کرنے کے ساتھ ساتھ مکمل تصرف واختیار کے ساتھ بیوی کو قبضہ بھی دے دیا تھا تو شرعاً ہبہ مکمل ہوگیا تھا، ایسی صورت میں وہ زمین بیوی کی ملکیت ہوگی۔

باقی   شریعتِ مطہرہ میں کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں،  البتہ گود میں لینے والے کو  پرورش ، تعلیم وتربیت  اور ادب واخلاق سکھانے کا ثواب ملے گا،  جاہلیت کے زمانہ  میں یہ دستور تھا کہ لوگ لے پالک اور منہ بولے اولاد کو حقیقی اولاد کا درجہ دیتے تھے ، لیکن اسلام نے اس تصور ورواج کو ختم کرکے یہ اعلان کردیا کہ منہ بولے  اولاد حقیقی اولاد نہیں ہوسکتے،   اور   لے پالک اور منہ بولے اولاد کو ان کے اصل والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے،لہذا  اگر  اپنی بہن کے بچے  کو لے کر اس  غرض سے اپنے پاس رکھا کہ میں اس کی تربیت  وپروش کروں گا، اور اسے بیٹے کی طرح رکھوں گا، اوراس کے اخراجات ومصارف  اٹھاؤں گا، اور اس کے حقیقی والد سے اس کی نسبت منقطع نہ کرے   تو یہ جائز ہے، البتہ بیوی پر اس کی پرورش  اور دیکھ  لازم نہیں تھی اور نہ ہی اس کی وجہ سے بیوی کے حقوق میں کمی کرنا جائز ہے۔شرح المجلۃ میں ہے:

"لایجوز لاحد  ان یاخذ  مال احد  بلا سبب شرعی"۔ (1/264،  مادۃ: 97، ط؛ رشیدیہ)

أحكام القرآن میں ہے: 

"وقوله تعالى: وما جعل أدعياءكم أبناءكم قيل إنه نزل في زيد بن حارثة وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد تبناه فكان يقال له زيد بن محمد وروي ذلك عن مجاهد وقتادة وغيرهما قال أبو بكر هذا يوجب نسخ السنة بالقرآن لأن الحكم الأول كان ثابتا بغير القرآن ونسخه بالقرآن وقوله تعالى ذلكم قولكم بأفواهكم يعني أنه لا حكم له وإنما هو قول لا معنى له ولا حقيقة، وقوله تعالى ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم فيه إباحة إطلاق اسم الأخوة وحظر إطلاق اسم الأبوة من غير جهة النسب ولذلك قال أصحابنا فيمن قال لعبده هو أخي لم يعتق إذا قال لم أرد به الأخوة من النسب لأن ذلك يطلق في الدين ولو قال هو ابني عتق لأن إطلاقه ممنوع إلا من جهة النسب وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام"۔ (أحكام القرآن للجصاص  (5/ 222) سورۂ احزاب ، ط: دار إحياء التراث العربي – بيروت) (تفسير الألوسي ، روح المعاني (11/ 145) احزاب، ط:دارالکتب العلمیہ)۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200916

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں