بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

شوہر پر اپنے اہل وعیال کی خبرگیری لازم ہے


سوال

مجھے یہ معلوم کرناتھا کہ میرے میاں میری ہر جائز ضرورت پوری کرتے ہیں،ان میں کوئی بھی بری عادت نہیں ہے،مگر وہ جتنا وقت گھرپر ہوتے ہیں ان کی دوسری مصروفیات ہوتی ہیں، مثلاً موبائل ، ٹی وی استعمال کرنا،مطلب جتناوقت گھر میں ہوتے ہیں کسی نہ کسی چیز میں مصروف ہوتے ہیں، مجھ سے بات نہیں کرتے، نہ خاص دل چسپی لیتے ہیں،نہ میرے ساتھ کسی تقریب میں جاتے ہیں ،میں ناراضگی کااظہار کروں تو کہتے ہیں میں تمہاری ہر ضرورت پورا کرتاہوں ،تم ناشکری ہو۔اس بارے میں کیاحکم ہے؟ وہ رات میں بھی جتنا وقت جاگتے ہیں موبائل میں ہی مصروف ہوتے ہیں، میری جانب دیکھتے بھی نہیں۔کیایہ طریقہ کار درست ہے کہ فقط ضروریات پوری کی جائیں اور وقت نہ دیاجائے۔نیز مجھے کوئی دعابھی بتلادیں تاکہ میرے شوہر مجھے وقت دیں اور ان کے دل میں میری محبت پیداہوجائے۔

جواب

میاں بیوی کارشتہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، اور اس کے دوام اور پختگی کے لیے ایک دوسرے کے حقوق کالحاظ کرنااورباہمی الفت ومحبت کو قائم رکھنالازم اور ضروری ہے۔چنانچہ مشکاۃ شریف کی روایت میں حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ''رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اے  مخاطب(شخص) !تو نے نکاح کی مانند ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ہوگی جو دو محبت کرنیوالوں کے درمیان محبت کو زیادہ کرے''۔

 مطلب یہ ہے کہ نکاح کے ذریعہ جس طرح خاوند اور بیوی کے درمیان بغیر کسی قرابت کے بے پناہ محبت والفت پیدا ہو جاتی ہے، اس طرح کا کوئی تعلق ایسا نہیں ہے جو دو شخصوں کے درمیان جو ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی ہوں، اس درجہ کی محبت والفت پیدا کر دے۔

رسول اللہﷺکی سیرت ہمارے لیے بہترین مشعلِ راہ ہے،آں حضرت ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات اور خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہایت محبت رکھتے تھے اور یہ تمام صحابہ کو معلوم تھا،چنانچہ لوگ قصداً اسی روز ہدیے اور تحفے بھیجتے تھے جس روز حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں قیام کی باری ہوتی۔(بخاری،باب فضل عائشۃ)

عموماً عصرکے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواجِ مطہرات کے پاس خبرگیری کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں بہت کم ایساہواہوگاکہ(عصر کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام ازواج مطہرات کے پاس نہ گئے ہوں ۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ اسلام میں نکاح اور شادی کے بعدبیوی کی خبرگیری اور اس کانان ونفقہ رہائش وغیرہ کی ذمہ داری شوہرپرہے،اگرشوہردن میں معاش کی غرض سے باہررہتاہوتورات اپنے گھرپرگزارناضروری ہے،بلاضرورت گھرکے علاوہ کہیں اورقیام درست نہیں۔

اگرکوئی شخص اپنے کام کاج کی مصروفیات کے ساتھ اہل وعیال کاخیال رکھتاہوان کی دیکھ بھال کرتاہواور ان کی ضروریات پوری کرتاہوکسی شکایت کاموقع نہ دیتاہو توایساشخص شرعی احکامات پرعمل پیراشمارہوگا، تاہم بیوی بچوں کووقت دینااوران کی خبرگیری مردپرلازم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ میں موجود ہے کہ آپ گھروالوں کے ساتھ گفتگوفرماتے،ان کی خبرگیری فرماتے،گھریلوکاموں میں ان کاہاتھ بٹاتے،ہنسی مذاق فرماتے، دل لگی  فرماتے ،اور ساتھ ہی دیگرتمام امور بھی سرانجام دیاکرتے تھے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی سیرت میں  ہمارے لیے بہترین نمونہ اور اسوہ موجودہے۔

لہذا آپ کے شوہر کا گھر آکر موبائل اور ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہوجانااور اپنے اہل وعیال سے گفتگو نہ کرنا،غیرشرعی طرزِ عمل اور بیوی کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہے،موبائل کاجائز حد تک استعمال درست ہے ،لیکن موبائل کاغیرضروری استعمال یا موبائل میں غیرشرعی امور دیکھنانیزٹی وی رکھنااور دیکھنا جائز نہیں ہے۔اس لیے انہیں ان غیرضرروی مصروفیات سے اجتناب کرتے ہوئے شریعت اور رسول اللہﷺکے اسوۂ حسنہ کے مطابق اپنے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آناچاہیے۔ملازمت کے اوقات کے علاوہ گھریلواوقات میں اہل وعیال کے ساتھ گفتگو اور ان کی خبرگیری یہ اہل وعیال کا حق ہے،البتہ شوہرکو کام کاج کی مصروفیات سے روکنااوراس کی ملازمت کے وقت کواپنے لیے طلب کرنادرست نہیں۔

آپس کے اتفاق  ومحبت کے لیے تقوی اور خوفِ خدا بنیاد ہے، نماز  اور شرعی احکام کا اہتمام کیا جائے ، ایک دوسرے کے حقوق اداکرنے کی فکر کی جائے،باہمی معاملات میں صبر وتحمل سے کام لیا جائے۔  آپ شوہر کی خوب خدمت کریں، انہیں خوش رکھنے کی پوری کوشش کریں، اور قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیتِ مبارکہ کا ہر فرض نماز کے بعد 11بار ورد کرکے صدقِ دل سے دعا کریں:

﴿وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعاً مَّا أَلَّفَتْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200602

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں