بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1440ھ- 21 اپریل 2019 ء

دارالافتاء

 

’’شزان‘‘ نام رکھنے کا حکم


سوال

’’شزان‘‘  نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

عربی زبان میں ’’شزان‘‘  شزن سے ہے، شزن کے معنی مختلف ہیں :

زمین کا سخت حصہ، کنارہ، طرف،  ’’رجل شزن‘‘، بداخلاق آدمی کو کہا جاتا ہے،  اسی طرح سختی وغیرہ اس کے معانی آتے ہیں۔

یہ نام رکھنا اچھا نہیں ہے۔

بہتر یہ ہے کہ  انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام  یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ناموں میں سے کوئی نام، یا  صلحاء (نیک لوگوں) کا جن ناموں کے رکھنے کا تعامل ہو  وہ نام رکھا جائے۔ یا اچھے معنیٰ والا کوئی عربی نام رکھیں۔

لسان العرب (13/ 236):
"شزن: الشَّزَنُ، بِالتَّحْرِيكِ، والشُّزُونة: الغِلَظُ مِنَ الأَرض؛ قَالَ الأَعشى:
تَيمَّمْتُ قَيْساً، وَكَمْ دُونَهُ ... مِنَ الأَرض مِنْ مَهْمَهٍ ذِي شَزَنْ ۔ وَفِي حديث الذي اختطفته الجنُّ:كُنْتُ إِذا هَبَطْتُ شَزَناً أَجده بَيْنَ ثَنْدُوَتَيَ؛ الشَّزَن، بِالتَّحْرِيكُ: الْغَلِيظُ مِنَ الأَرض، وَالْجَمْعُ شُزُنٌ وشُزونٌ، وَقَدْ شَزُنَ شُزُونة. وَرَجُلٌ شَزَن [شَزِن] : فِي خُلُقه عَسَرٌ. وتَشَزَّنَ فِي الأَمر: تَصَعَّبَ. وَفِي حَدِيثِ لُقْمانَ بْنِ عادٍ: ووَلَّاهم شَزَنَه ، يُرْوَى بِفَتْحِ الشِّينِ وَالزَّايِ وَبِضَمِّهِمَا وَبِضَمِّ الشِّينِ وَسُكُونِ الزَّايِ، وَهِيَ لُغَاتٌ فِي الشِّدَّة والغِلْظة، وَقِيلَ: هُوَ الْجَانِبُ، أَي يُوَلِّي أَعداءَه شِدَّته وبأْسه أَو جَانِبَهُ أَي إِذا دَهَمَهم أَمر وَلَّاهم جَانِبَهُ فحَاطَهم بِنَفْسِهِ. يُقَالُ: وَلَّيته ظَهْرِي إِذا جَعَلَهُ وَرَاءَهُ وأَخذَ يَذُبُّ عَنْهُ. وشَزِنَت الإِبل شَزَناً: عَيِيَتْ مِنَ الْحَفَا. والشَّزَنُ: شِدَّةُ الإِعياء مِنَ الْحَفَا، وَقَدْ شَزِنت الإِبل". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200287

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں