بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شراکت داری میں نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟


سوال

میرا ایک دوست کے ساتھ شراکت داری پر مبنی کاروبار تھا، ہم سافٹ ویئر اور ویب سائٹس بناتے تھے، میرا دوست مارکیٹ سے پروجیکٹ لیتا تھا اور میں وہ کام مکمل کر کے دیتا تھا، ہماری شراکت برابر برابر کی تھی، اس دوران میں پراجیکٹ مکمل کرتا گیا اور پیمینٹ میرا دوست وصول کر لیتا؛ کیوں کہ میرے دوست کی مالی حالات درست نہیں تھے اس لیے وہ مجھے میرا حصہ نہیں  دیتا تھا ، یوں اس پر میرا تقریباً ایک لاکھ تینتیس ہزار کا قرض چڑھ گیا، اس کی مالی حالت کی وجہ سے کافی عرصہ میں نے مطالبہ  نہیں کیا، لیکن ساتھ ساتھ میں اس سے تفصیل لیتا رہتا کہ کھاتوں کی کیا پوزیشن ہے. اس دوران ہم نے چند پروجیکٹ مکمل کیے  بغیر ہی واپس کر دیے اور جو ایڈوانس لیا تھا وہ کسٹمر کو واپس کر دیا.

کچھ عرصی بعد چند وجوہ کی بنا پر میرے دوست نے شراکت داری ختم کر دی. تب میں نے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو میرا دوست کہنے لگا کہ  یہ رقم آپ کی نہیں بنتی کیوں کہ آپ نے تین پراجیکٹ مکمل نہیں کیے  تھے اور آپ کی وجہ سے ہمیں یہ رقم واپس کرنی پڑی. وہ پراجیکٹ اگر ہم مکمل کرتے تو ہمیں دو لاکھ بائیس ہزار ملتے چوں کہ تم نے پراجیکٹ مکمل نہیں کیے  اس لیے بجائےاس کے کہ میں آپ کو رقم دوں آپ مجھے رقم دیں گے. حالانکہ پراجیکٹس پر میں نے کافی کام کیا تھا. لیکن کچھ کسٹمر کی وجہ سے کچھ ہماری وجہ سے پراجیکٹ واپس ہوئے.اس طرح میرے دوست کی مارکیٹ میں محنت ضائع ہوئی اور میر ا پراجیکٹ پر وقت.

اب آپ بتائیں کیا میرے دوست کا رقم واپس نہ  کرنا صحیح ہے اور کیا میرا رقم کا مطالبہ درست ہے?

جواب

بصورت صدق مضمون استفتا صورت مسئولہ میں سائل کا اپنی رقم کا مطالبہ درست ہے، اس لیے  کہ یہ مطالبہ ان پراجیکٹس سے متعلق ہے جو مکمل کرلیے گئے تھے،اور مکمل کردہ پراجیکٹس کی آمدن کی تقسیم معاہدہ کے مطابق ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے: "وحکم شرکۃ الملک صیرورۃ المعقود علیہ وما یستفاد بہ مشترکا بینھما "۔( ج: ۲، ص: ۳۰۲)

اور جو پراجیکٹ مکمل کیے بغیر واپس کردیے گئے اس میں دونوں ہی شراکت داروں کی محنت ضائع ہوئی اوریہی نقصان ہوا، مگراس کی وجہ سے ایک شریک کے لیے  دوسرے شریک کا نفع روکنا جائز نہیں، بلکہ غصب اورظلم ہے۔

کذا فی البحر: ورکنہ ای رکن الغصب: ازالۃ الید المحقۃ  واثبات الید المبطلۃ  ۔۔۔۔وصفتہ: انہ حرام محرم علی الغاصب( ۸، ص: ۱۹۶) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143810200023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے