بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر بھات کی رسم کا حکم


سوال

 ایک رسم ہے "بھات" کی،  اس میں ہوتا یہ ہے کہ بہن اپنے بچوں کی شادی میں بھائیوں سے بھات لیتی ہے،  جس میں بھائی بہن کو کچھ کپڑے اور کچھ پیسے دیتے ہیں ۔ شریعت کی نظر میں یہ عمل کیا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر بھائی اپنی بہن کے بچوں کو شادی کے موقع پرصلہ رحمی کے طور پرخوشی سے  ہدیہ اور تحفہ میں کپڑے یا پیسے وغیرہ دیں تو یہ جائز ہے،منع نہیں ہے۔

  لیکن اگر "بھات"  کی رسم کی وجہ سے ان سے زبردستی لیا جائے  یا  وہ خوشی سے نہ دیں،  بلکہ خاندانی  ومعاشرتی دباؤ اور ملامت کے خوف دے دیں ، یا اس رسم کو لازم اور ضروری سمجھاجاتا ہو  ، نہ دینے والوں پر ملامت کی جاتی ہو تو شرعاً یہ غلط اور ناجائز رسم ہے،  اس کا ترک کرنا ضروری ہے، شریعت میں اس کا تصور نہیں ہے۔

"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه رضي اللّٰه عنه قال: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: ألا لاتظلموا! ألا لایحل مال إمرء إلا بطیب نفس منه"۔ (مشکاۃ المصابیح / باب الغصب والعاریۃ، الفصل الثاني ۲۵۵) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201484

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے