بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شادی کی سال گرہ کا حکم


سوال

اگر میاں بیوی ایک دوسرے کو سال گرہ کے موقع پر یا شادی کی سال گرہ پر تحفے دیں تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ کسی محفل کا اہتمام نہ ہو بس تحفوں کا تبادلہ ہو جائے؟

جواب

شادی بیاہ یاعمررفتہ کی سال گرہ مناناکوئی شرعی تقریب نہیں ہے اور نہ ہی شرعاً اس کی کوئی حیثیت ہے، بلکہ یہ چیزیں غیرمسلموں کی تہذیب سے مشابہت رکھتی ہیں، اس لیے ان سے احترازچاہیے۔ البتہ سال گرہ کی قیدکے بغیرمطلقاً ایک دوسرے کوتحفہ دینادرست اورکارثواب ہے۔(کفایت المفتی ،سال گرہ کی رسم ،9/84،ط:دارالاشاعت۔اسلام اورہماری زندگی،7/308،ط:ادارۂ اسلامیات)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200681

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے