بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

شادی وغیرہ کی مخلوط و غیر مخلوط محافل میں عورتوں کا اشعار پڑھنے، گانا گانے اور رقص کرنے کا حکم


سوال

ہمارے ایک دوست جو کہ عالم ہیں ان کا کہنا ہے کہ شادی یا خوشی کی محافل میں گھر کے اندر عورتوں کا ترنم کے ساتھ اشعار پڑھنا(یعنی گانا) اور ناچ جائز ہے اگر مخلوط محفل نہ ہو ۔تو کیا علماء اس بات پر متفق ہیں کہ ایسا عمل جائز ہے؟ اور ایسے اعمال سے بچنے کے بارے میں اگر کہا جاۓ تو متشدد اور انتہا پسندانہ ذہنیت کا طعنہ دیا جاتا ہے تو کیا واقعی ان امور سے بچنا انتہا پسندی ہے؟حال آں کہ مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا ہو۔

جواب

موسیقی کے آلات اور ساز کے ساتھ گانا حرام ہے، چاہے گانے والا مرد ہو یا عورت، اور مجلس میں گائے یا تنہائی میں۔ اسی طرح جو اشعار کفر و شرک یا بے حیائی و گناہ کی باتوں پر مشتمل ہوں ان کا گانا بھی (گو آلات و موسیقی کے بغیر ہو ) حرام ہے۔ البتہ مباح اشعار اور ایسے اشعار جو حمد و نعت یا حکمت و دانائی کی باتوں پر مشتمل ہوں ان کا ترنم کے ساتھ پڑھنا جائز ہے، اور اگر عورتوں اور مردوں کا مخلوط مجمع نہ ہو تو دوسروں کو سنانا بھی جائز ہے، اگر کوئی عورت تنہائی میں یا  خالص عورتوں کے مجمع میں (جس میں کوئی مرد نہ ہو ، اور اس کی آواز مجلس سے باہر نہ جائے)  ایسے اشعار ترنم کے ساتھ پڑھے تو یہ جائز ہے۔ لیکن آج کل کے فساق و فجار کے مروجہ عشقیہ گیت اور گانے حکمت و دانائی پر مشتمل نہیں ہوتے، بلکہ ان سے نفسانی خواہشات ابھرتی ہیں اور گناہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے، اس لیے  یہ قطعی ناجائز ہیں، ان کا گانا نہ عورتوں کے لیے جائز ہے اور نہ مردوں کے لیے، نہ مجلس میں اور نہ تنہائی میں، حدیث میں ایسے ہی گانے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ  وہ دل میں نفاق پیدا کرتا ہے، خلاصہ یہ ہوا کہ  شادی یا خوشی کی  محافل میں عورتوں کا گھر کے اندر خالص عورتوں کی مجلس میں مروجہ گانے گانا ناجائز ہے، البتہ ترنم کے ساتھ اشعار پڑھنے کی دو شرطوں کے ساتھ گنجائش ہے، ایک یہ کہ غیر محرم مردوں کے کانوں میں ان کی آواز نہ پڑے، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اشعار فحش مضامین اور ناجائز کلام پر مشتمل نہ ہوں۔

رقص کی مروجہ کیفیت جس میں تھرکنے اور لچکنے کی کیفیت پائی جاتی ہے اور مخنث لوگوں کے طریقہ سے مماثلت رکھتا ہے ،یہ ہر حال میں ناجائز اور حرام ہے، مردوں کے لیے بھی اور عورتوں کے لیے بھی، بلکہ عورتوں کے لیے رقص کا یہ عمل اور بھی زیادہ شدید معصیت اور گناہ کا باعث ہے، چاہے مجمع و محفل مخلوط ہو یا نہ ہو۔

لہٰذا گانے بجانے کی ناجائز صورتوں اور رقص  وغیرہ سے منع کرنا شرعاً بالکل درست بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے، اور منع کرنے والے شخص کو متشدد و انتہا پسند کہنا بالکل غلط اور دینی احکام سے ناواقفیت ہے، ہونا تو یہ چاہیے کہ منع کرنے والے کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اس کا ساتھ دیا جائے، نہ یہ کہ غلط طعنے دے کر  اس کی حوصلہ شکنی کی جائے اور گویا اس کو اس دینی فریضے سے روک دیا جائے۔

سو رۃ لقما ن میں اللہ تعا لیٰ کا ار شا دہے :
’’ومن النا س من یشتری لهو الحدیث لیضل عن سبیل الله بغیر علم و یتخذها هزوا او لئک لهم عذا ب مهین ‘‘ (لقمان :۶)
ترجمہ: ’’بعض لو گ ایسے ہیں جو ان با توں کے خریدار ہیں جو اللہ سے غا فل کرنے وا لی ہیں؛ تاکہ بے سمجھے بو جھے اللہ کی راہ سے بھٹکا ئیں ا ور اس را ہ کی ہنسی اڑائیں ایسے لو گو ں کے لیے ذلت کا عذاب ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عبا س ر ضی اللہ عنہ ’’لھو الحدیث‘‘ کی تعریف فرماتے ہیں:
’’هو الغنا ء وأشباهه‘‘.

ترجمہ: ’’لھو الحدیث گا نا اور اس قسم کی چیزیں ہیں ‘‘۔ (روح المعانی ۔سورۃ لقمان:تحت قولہ تعالیٰ :ومن الناس من یشتری …الخ:۲۱؍۶۷۔ط:دار احیاء التراث العربی۔)
صاحبِ رو ح المعا نی نے ’’بیہقی‘‘ کے حوالے سے ابو عثما ن اللیثی کی روا یت نقل کی ہے :
"إیاکم والغناء؛ فإنه ینقص الحیاء ویزید في الشهوة ویهدم المر وة‘‘. (۲)
ترجمہ: غناء حیا  کو کم کرتا ہے، شہوت میں اضا فہ کرتا ہے، مروت اور اخلا ق کو تبا ہ کر دیتا ہے۔  (روح المعانی:۲۱؍۶۸۔ایضاً۔)

سورۃ بنی اسرائیل میں با ری تعا لیٰ کا ارشاد ہے :
’’واستفزز من استطعت منهم بصو تک ‘‘ (بنی اسرائیل:۶۴)
ترجمہ: ان میں سے جس پر قابو پائے اسے اپنی آواز کے ذریعہ راہِ راست سے ہٹا دے ۔

تشریح
"حضرت مجاہد بن جبیر کی تفسیرکے مطا بق آیت میں (صوت) سے مراد گا نا بجانا لہو و فضول اور بے کار قسم کے کام ہیں ۔ابن عباسؓ سے ابن ابی حاتم روایت کرتے ہیں

’’عن ابن عباس قو له: ’’واستفزز من استطعت منهم بصوتک‘‘ کل داع إلی معصیة‘‘.
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ کے قول میں ’’بصو تک‘‘ سے مراد ہر وہ چیز ہے جو گنا ہ اور نا فر مانی کی طرف بلائے‘‘۔ ( روح المعانی ۔ تفسیر قولہ تعالیٰ : واستفزز من استطعت …الخ :۱۵؍۱۱۱۔المرجع السابق۔)
علامہ ابن القیمؒ لکھتے ہیں:
’’ومن المعلوم أن الغناء من أعظم الدواعي إلی المعصیة، ولهذا فسر صوت الشیطان به‘‘.
ترجمہ: ’’اور یہ بات معلوم ہے کہ گناہ کی طرف بلانے وا لی چیزوں میں سب سے بڑھ کر گا نا ہے‘‘۔ 
(إغاثة اللهفان من مصاید الشیطان، لابن القیم الجوزي، فصل: تسمیته صوت الشیطان،۱؍۲۸۵. ط: دار الکتب العلمیة، بیروت)

حدیث شریف میں ہے:

صحيح البخاري (7/ 106):

"وقال هشام بن عمار: حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثنا عطية بن قيس الكلابي، حدثنا عبد الرحمن بن غنم الأشعري، قال: حدثني أبو عامر أو أبومالك الأشعري، والله ما كذبني: سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: " ليكونن من أمتي أقوام، يستحلون الحر والحرير، والخمر والمعازف".

سنن ابن ماجه (2/ 1333):

"حدثنا عبد الله بن سعيد قال: حدثنا معن بن عيسى، عن معاوية بن صالح، عن حاتم بن حريث، عن مالك بن أبي مريم، عن عبد الرحمن بن غنم الأشعري، عن أبي مالك الأشعري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليشربن ناس من أمتي الخمر، يسمونها بغير اسمها، يعزف على رءوسهم بالمعازف، والمغنيات، يخسف الله بهم الأرض، ويجعل منهم القردة والخنازير».

 یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عن قریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم ،شراب اور باجوں کو حلا ل سمجھیں گے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں عن قریب میری امت کے کچھ لوگ شراب پییں گے اور اس کا نام بد ل دیں گے ۔ ان کے سروں پر ناچ گا نے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو خنزیر  اور بندر بنا دے گا ۔

"عن ابن مسعود رضي اللّٰه عنه أن النبي صلی اللّٰه علیه وسلم سمع رجلاً یتغنی من اللیل فقال :لا صلوة له، لا صلوة له، لا صلوة له".
ترجمہ:حضرت عبد اللہ ابن مسعو دؓ سے روا یت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات کسی شخص کے گا نے کی آواز سنی تو آپ نے تین مرتبہ فر ما یا: اس کی نما ز مقبول نہیں۔ (نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار، باب ماجاء في آلة اللهو، ۸؍۱۰۴۔ط: مصطفیٰ البابي الحلبي الطبعة الثالثة)
"عن أبي هریرة رضي الله تعا لی عنه أن النبي صلی الله علیه وسلم قال: استماع الملاهي معصیة، والجلوس علیها فسق، والتلذذ بها کفر".
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنے ارشاد فر ما یا :گا نا باجا سننا معصیت ہے ،اس کے لیے بیٹھنا فسق ہے اور اس سے لطف اندوزی کفر ہے ۔ 
(نیل الأوطار شرح منتقی الأخبار، باب ماجاء في آلة اللهو، ۸؍۱۰۴۔ط: مصطفیٰ البابي الحلبي الطبعة الثالثة)

"عن علي رضي الله تعا لٰی عنه أن النبي صلی الله علیه وسلم قال : بعثت بکسر المزامیر. رواه غیلان".
ترجمہ: حضرت علی ؓ سے روا یت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں بانسریاں (آلات موسیقی)تو ڑنے کے واسطے بھیجا گیا ہوں۔ (نیل الأوطار شرح منتقی الاخبار، باب ماجاء في آلة اللهو،۸؍۱۰۴۔ط: مصطفیٰ البابي الحلبي، الطبعة الثالثة)

"عن عبدالله بن مسعود رضي الله عنه أن النبي صلی الله علیه وسلم قال: إیا کم واستما ع المعازف والغناء فإنهماینبتا ن النفاق في القلب کما ینبت الماء البقل".
ترجمہ: عبداللہ بن مسعو دؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺنے ارشاد فر مایا :  گانے باجے سننے سے بچو ، اس لیے  کہ یہ دل میں اس طرح نفاق پیدا کرتے ہیں جس طرح پانی کھیتی اگاتا ہے ۔ (کنز العمال في سنن الأقوال،کتاب اللهو واللعب والتغني،۱۵؍۲۲۰، رقم الحدیث:۴۰۶۶۷،ط: مؤسسة الرسالة، بیروت)

حضرت فضیل بن عیاضؒ کا قول ہے:
"اَلْغَنَاء رُقْیَة الزِّنَا". (إغاثة اللهفان لابن القیم۱؍۲۴۵)
ترجمہ: گانا زنا کا منتر (دعوت) ہے۔
مشہور عالم یزید بن ولید کا ارشاد ہے:
"اِیَّاکُمْ وَالْغَنَاء فَاِنَّه یَنْقُصُ الْحَیَاء، وَیَزِیْدُ فِي الشَّهوَة، وَإنَّه لَیَنُوْبُ عَنِ الْخَمْرِ، وَیَفْعَلُ مَا یَفْعَلُ السُّکْرُ، وَجَنِّبُوْه النِّسَاء؛ فَاِنَّ الْغَنَاء دَاعِیَة الزِّنَا". (إغاثة اللهفان لابن القیم ۱؍۲۴۵)
ترجمہ: تم گانے بجانے سے بچو، اس سے حیا کم اور شہوت زیادہ ہوتی ہے، وہ شراب کی طرح ہے، اور نشہ آور چیزوں کا کام کرتا ہے، عورتوں کو اس سے الگ رکھو؛ اس لیے کہ گانا زنا کا قوی سبب ہوتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 348):

"وفي السراج: ودلت المسألة أن الملاهي كلها حرام ويدخل عليهم بلا إذنهم لإنكار المنكر، قال ابن مسعود: صوت اللهو والغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات. قلت: وفي البزازية: استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه» وأشعار العرب لو فيها ذكر الفسق تكره اهـ أو لتغليظ الذنب كما في الاختيار أو للاستحلال كما في النهاية. [فائدة]

 (قوله: ودلت المسألة إلخ) لأن محمداً أطلق اسم اللعب والغناء فاللعب وهو اللهو حرام بالنص، قال عليه الصلاة والسلام: «لهو المؤمن باطل إلا في ثلاث: تأديبه فرسه» وفي رواية: «ملاعبته بفرسه ورميه عن قوسه وملاعبته مع أهله» كفاية. وكذا قول الإمام: ابتليت دليل على أنه حرام إتقاني، وفيه كلام لابن الكمال فيه فراجعه متأملاً (قوله: ويدخل عليهم إلخ) لأنهم أسقطوا حرمتهم بفعلهم المنكر فجاز هتكها كما للشهود أن ينظروا إلى عورة الزاني حيث هتك حرمة نفسه وتمامه في المنح (قوله: قال ابن مسعود إلخ) رواه في السنن مرفوعا إلى النبي صلى الله عليه وسلم بلفظ: «إن الغناء ينبت النفاق في القلب»" كما في غاية البيان. وقيل: إن تغنى ليستفيد نظم القوافي ويصير فصيح اللسان لا بأس به، وقيل: إن تغنى وحده لنفسه لدفع الوحشة لا بأس به وبه أخذ السرخسيو وذكر شيخ الإسلام أن كل ذلك مكروه عند علمائنا. واحتج بقوله تعالى:{ومن الناس من يشتري لهو الحديث} [لقمان: 6] الآية جاء في التفسير: أن المراد الغناء وحمل ما وقع من الصحابة على إنشاء الشعر المباح الذي فيه الحكم والمواعظ، فإن لفظ الغناء كما يطلق على المعروف يطلق على غيره كما في الحديث «من لم يتغن بالقرآن فليس منا» وتمامه في النهاية وغيرها. [تنبيه]

عرف القهستاني الغناء بأنه ترديد الصوت بالألحان في الشعر مع انضمام التصفيق المناسب لها قال فإن فقد قيد من هذه الثلاثة لم يتحقق الغناء اهـ قال في الدر المنتقى: وقد تعقب بأن تعريفه هكذا لم يعرف في كتبنا فتدبر اهـ. أقول: وفي شهادات فتح القدير بعد كلام عرفنا من هذا أن التغني المحرم ما كان في اللفظ ما لا يحل كصفة الذكور والمرأة المعينة الحية ووصف الخمر المهيج إليها والحانات والهجاء لمسلم أو ذمي إذا أراد المتكلم هجاءه لا إذا أراد إنشاده للاستشهاد به أو ليعلم فصاحته وبلاغته، وكان فيه وصف امرأة ليست كذلك أو الزهريات المتضمنة وصف الرياحين والأزهار والمياه فلا وجه لمنعه على هذا، نعم إذا قيل ذلك على الملاهي امتنع وإن كان مواعظ وحكماّ للآلات نفسها لا لذلك التغني اهـ ملخصا وتمامه فيه فراجعه، وفي الملتقى وعن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم أنه كره رفع الصوت عند قراءة القرآن والجنازة والزحف والتذكير، فما ظنك به عند الغناء الذي يسمونه وجدا ومحبة فإنه مكروه لا أصل له في الدين. قال الشارح: زاد في الجوهرة: وما يفعله متصوفة زماننا حرام لا يجوز القصد والجلوس إليه ومن قبلهم لم يفعل كذلك، وما نقل أنه عليه الصلاة والسلام سمع الشعر لم يدل على إباحة الغناء. ويجوز حمله على الشعر المباح المشتمل على الحكمة والوعظ، وحديث تواجده عليه الصلاة والسلام لم يصح، وكان النصرآباذي يسمع فعوتب فقال: إنه خير من الغيبة فقيل له هيهات بل زلة السماع شر من كذا وكذا سنة يغتاب الناس، وقال السري: شرط الواجد في غيبته أن يبلغ إلى حد لو ضرب وجهه بالسيف لا يشعر فيه بوجع اهـ. قلت: وفي التتارخانية عن العيون: إن كان السماع سماع القرآن والموعظة يجوز، وإن كان سماع غناء فهو حرام بإجماع العلماء ومن أباحه من الصوفية، فلمن تخلى عن اللهو، وتحلى بالتقوى، واحتاج إلى ذلك احتياج المريض إلى الدواء. وله شرائط ستة: أن لا يكون فيهم أمرد، وأن تكون جماعتهم من جنسهم، وأن تكون نية القول الإخلاص لا أخذ الأجر والطعام، وأن لا يجتمعوا لأجل طعام أو فتوح، وأن لا يقوموا إلا مغلوبين وأن لا يظهروا وجدا إلا صادقين.

والحاصل: أنه لا رخصة في السماع في زماننا لأن الجنيد - رحمه الله - تعالى تاب عن السماع في زمانه اهـ وانظر ما في الفتاوى الخيرية (قوله ينبت النفاق) أي العملي (قوله كضرب قصب) الذي رأيته في البزازية قضيب بالضاد المعجمة والمثناة بعدها (قوله فسق) أي خروج عن الطاعة ولا يخفى أن في الجلوس عليها استماعا لها والاستماع معصية فهما معصيتان (قوله فصرف الجوارح إلخ) ساقه تعليلا لبيان صحة إطلاق الكفر على كفران النعمة ط (قوله فالواجب) تفريع على قوله استماع الملاهي معصية ط (قوله أدخل أصبعه في أذنه) الذي رأيته في البزازية  والمنح بالتثنية (قوله تكره) أي تكره قراءتها فكيف التغني بها. قال في التتارخانية: قراءة الأشعار إن لم يكن فيها ذكر الفسق والغلام ونحوه لا تكره. وفي الظهيرية: قيل معنى الكراهة في الشعر أن يشغل الإنسان عن الذكر والقراءة وإلا فلا بأس به اهـ.

وقال في تبيين المحارم: واعلم أن ما كان حراماً من الشعر ما فيه فحش أو هجو مسلم أو كذب على الله تعالى أو رسوله صلى الله عليه وسلم أو على الصحابة أو تزكية النفس أو الكذب أو التفاخر المذموم، أو القدح في الأنساب، وكذا ما فيه وصف أمرد أو امرأة بعينها إذا كانا حيين، فإنه لا يجوز وصف امرأة معينة حية ولا وصف أمرد معين حي حسن الوجه بين يدي الرجال ولا في نفسه، وأما وصف الميتة أو غير المعينة فلا بأس وكذا الحكم في الأمرد ولا وصف الخمر المهيج إليها والديريات والحانات والهجاء ولو لذمي كذا في ابن الهمام والزيلعي. وأما وصف الخدود والأصداغ وحسن القد والقامة وسائر أوصاف النساء والمرد قال بعضهم: فيه نظر، وقال في المعارف: لا يليق بأهل الديانات، وينبغي أن لا يجوز إنشاده عند من غلب عليه الهوى والشهوة لأنه يهيجه على إجالة فكره فيمن لا يحل، وما كان سببا لمحظور فهو محظور اهـ. أقول: وقدمنا أن إنشاده للاستشهاد لا يضر ومثله فيما يظهر إنشاده أو عمله لتشبيهات بليغة واستعارات بديعة (قوله: أو لتغليظ الذنب) عطف على قوله أي بالنعمة يعني إنما أطلق عليه لفظ الكفر تغليظا اهـ ح".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 259):

"ومن يستحل الرقص قالوا بكفره ... ولا سيما بالدف يلهو ويزمر

 (قوله: ومن يستحل الرقص قالوا بكفره) المراد به التمايل والخفض والرفع بحركات موزونة كما يفعله بعض من ينتسب إلى التصوف.

وقد نقل في البزازية عن القرطبي إجماع الأئمة على حرمة هذا الغناء وضرب القضيب والرقص. قال ورأيت فتوى شيخ الإسلام جلال الملة والدين الكرماني أن مستحل هذا الرقص كافر، وتمامه في شرح الوهبانية. ونقل في نور العين عن التمهيد أنه فاسق لا كافر".

الفتاوى الهندية (5/ 352):

"قال - رحمه الله تعالى - السماع والقول والرقص الذي يفعله المتصوفة في زماننا حرام لايجوز القصد إليه والجلوس عليه وهو والغناء والمزامير سواء وجوزه أهل التصوف واحتجوا بفعل المشايخ من قبلهم قال وعندي أن ما يفعلونه غير ما يفعله هؤلاء فإن في زمانهم ربما ينشد واحد شعرا فيه معنى يوافق أحوالهم فيوافقه ومن كان له قلب رقيق إذا سمع كلمة توافقه على أمر هو فيه ربما يغشى على عقله فيقوم من غير اختيار وتخرج حركات منه من غير اختياره وذلك مما لا يستبعد أن يكون جائزاً مما لايؤخذ به ولايظن في المشايخ أنهم فعلوا مثل ما يفعل أهل زماننا من أهل الفسق والذين لا علم لهم بأحكام الشرع وإنما يتمسك بأفعال أهل الدين كذا في جواهر الفتاوى.

وسئل أبو يوسف - رحمه الله تعالى - عن الدف أتكرهه في غير العرس بأن تضرب المرأة في غير فسق للصبي؟ قال: لا أكرهه. وأما الذي يجيء منه اللعب الفاحش للغناء فإني أكرهه. كذا في محيط السرخسي. ولا بأس بضرب الدف يوم العيد كذا في خزانة المفتين".

الموسوعة الفقهية الكويتية (23/ 9):

"رقص: التعريف:... واصطلاحاً: عرف ابن عابدين الرقص بأنه التمايل، والخفض، والرفع بحركات موزونة ... فذهب الحنفية والمالكية والحنابلة والقفال من الشافعية إلى كراهة الرقص معللين ذلك بأن فعله دناءة وسفه، وأنه من مسقطات المروءة، وأنه من اللهو. قال الأبي: وحمل العلماء حديث رقص الحبشة على الوثب بسلاحهم، ولعبهم بحرابهم، ليوافق ما جاء في رواية: يلعبون عند رسول الله بحرابهم ۔ وهذا كله ما لم يصحب الرقص أمر محرم كشرب الخمر، أو كشف العورة ونحوهما، فيحرم اتفاقاً."فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144004200115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے