بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

سڑک پر جمع بارش کے پانی کے چھینٹوں کا حکم


سوال

بارش کے چھینٹے راستے میں چلتے ہوئے پڑ جائیں تو کپڑوں کا یا جسم کا کیا حکم ہے، اسی طرح سڑک پر بائیک چلاتے ہوئے بھی؟

جواب

بارش کا پانی اگر سڑک پر جمع ہو اور وہ صرف بارش کا ہی پانی ہو، اس میں گٹر کے پانی یا دیگر نجاستوں کی آمیزش نہ ہو  تو وہ پانی پاک ہے ، کپڑوں پر لگنے سے کپڑے ناپاک نہیں ہوںگے،  اور اگر بارش کے پانی میں گٹر کے پانی یا دیگر نجاستوں  کی آمیزش ہو جائے اور وہ  کسی کے کپڑے یا جسم پر لگ جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں:

(1) اس علاقے میں مسلسل بارش ہوتی ہو اور اس شخص کی اس راستہ پر کثرت سے آمد ورفت ہو ، اور اس سے بچنا مشکل ہے تو  اس کیچڑ میں  اگر بعینہ نجاست نظر نہ آئے یعنی نجاست کا اثر واضح نہ ہو ، تو اسے  ایسے شخص کے حق میں  ناپاک نہیں سمجھا جائے گا، البتہ اگر یہ اسے دھو کر نماز پڑھ لے تو بہت بہتر ہے، اور اگر بعینہٖ نجاست نظر آئے تو پھر اس کو پاک کرنا ضروری ہوگا۔

(2) اس علاقے میں بارش مسلسل اتنی زیادہ نہیں ہوتی، یا اس شخص کی اس راستہ پر آمد ورفت (آنا، جانا) کم ہے، تو چوں کہ اس کے حق میں یہ ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی تنگی ہے تو ایسے شخص کے لیے بہر صورت اس کو پاک کرنا ضروری ہوگا، ناپاک کپڑوں کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ  اس حصہ کو جس پر یہ ناپاک پانی لگاہو تین مرتبہ دھوکر ہر مرتبہ نچوڑلیاجائے ، یا بہتے ہوئے پانی میں اتنی دیر دھویا جائے کہ نجاست کا اثر بالکل زائل ہوجائے اس سے کپڑے پاک ہوجائیں گے۔ اور جسم پر یہ گندا  پانی لگ جائے تو جسم کے اس حصہ کو پانی سے دھونا ضروری ہوگا، اگر سوکھ جانے کے بعد اندازہ نہ ہو تو غالب گمان پر عمل کیا جائے۔

ہمارے یہاں شہر میں بارشیں اتنی زیادہ نہیں ہوتی، اور عام طور پر گٹر کے پانی کی آمیزش بھی ہوجاتی ہے؛ اس لیے بارش کے بعد بننے والی کیچڑ کو حتی الامکان  پاک کرکے نماز پڑھنی چاہیے۔

"فتاوی شامی" (1/ 324) میں ہے :
"مطلب في العفو عن طين الشارع (قوله: وطين شارع) مبتدأ خبره قوله: عفو والشارع الطريق ط. وفي الفيض: طين الشوارع عفو وإن ملأ الثوب للضرورة ولو مختلطا بالعذرات وتجوز الصلاة معه. اهـ. . وقدمنا أن هذا قاسه المشايخ على قول محمد آخرا بطهارة الروث والخثي، ومقتضاه أنه طاهر لكن لم يقبله الإمام الحلواني كما في الخلاصة. قال في الحلية: أي: لا يقبل كونه طاهرا وهو متجه، بل الأشبه المنع بالقدر الفاحش منه إلا لمن ابتلي به بحيث يجيء ويذهب في أيام الأوحال في بلادنا الشامية لعدم انفكاك طرقها من النجاسة غالبا مع عسر الاحتراز، بخلاف من لا يمر بها أصلا في هذه الحالة فلا يعفى في حقه حتى إن هذا لا يصلي في ثوب ذاك. اهـ.
أقول: والعفو مقيد بما إذا لم يظهر فيه أثر النجاسة كما نقله في الفتح عن التجنيس. وقال القهستاني: إنه الصحيح، لكن حكى في القنية قولين وارتضاهما؛ فحكى عن أبي نصر الدبوسي أنه طاهر إلا إذا رأى عين النجاسة، وقال: وهو صحيح من حيث الرواية وقريب من حيث المنصوص؛ ثم نقل عن غيره فقال: إن غلبت النجاسة لم يجز، وإن غلب الطين فطاهر. ثم قال: وإنه حسن عند المنصف دون المعاند اهـ.
والقول الثاني مبني على القول بأنه إذا اختلط ماء وتراب وأحدهما نجس فالعبرة للغالب، وفيه أقوال ستأتي في الفروع.
والحاصل أن الذي ينبغي أنه حيث كان العفو للضرورة، وعدم إمكان الاحتراز أن يقال بالعفو وإن غلبت النجاسة ما لم ير عينها لو أصابه بلا قصد وكان ممن يذهب ويجيء، وإلا فلا ضرورة. وقد حكى في القنية أيضا قولين فيما لو ابتلت قدماه مما رش في الأسواق الغالبة النجاسة، ثم نقل أنه لو أصاب ثوبه طين السوق أو السكة ثم وقع الثوب في الماء تنجس". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200763

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے