بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

سونے کی مقررہ مقدار سے کم میں زکوۃ کا حکم


سوال

چند دن پہلے نیا سال مکمل ہوا۔ مقررہ قمری تاریخ کو میری ملکیت میں صرف چار تولے سونا اور 215 رپے تھے۔ کیا مجھے زکو ٰۃ ادا کرنا ہوگی؟

جواب

اگرکسی شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سے کم سوناہو،لیکن اس کے ساتھ کچھ نقد رقم،چاندی یامال تجارت ہو خواہ وہ مقدارمیں کم ہی ہو،لیکن اس کوسونے کے ساتھ ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت بن جاتی ہو توزکوۃ فرض ہے۔لہذا مذکورہ صورت میں جب سال مکمل ہوا اورسونے کے ساتھ کچھ نقدرقم بھی تھی اورمالیت ساڑے باون تولہ چاندی کوپہنچ رہی ہے ،لہذا زکوۃ کی ادائیگی لازم ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143702200020

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں