بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1440ھ- 20 ستمبر 2018 ء

دارالافتاء

 

سود ی معاملات کو لکھنا


سوال

مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ  نے سود کے کھانے والے اور دینے والے اور سود کو لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ سب برابر ہیں۔

میں ایک اکاؤنٹنٹ ہوں جو کہ  پراپرٹی کی ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں ، میرے کام  میں سود ی معاملات کو لکھنا اور  سودی چیک تیار کرکے دینا بھی شامل ہے، البتہ میں ان سودی معاملات کے وقت موقع پر موجود نہیں ہوتا، ہاں اس کو بعد میں لکھتا ہوں، کیا میری جاب حرام ہے؟

جواب

اگر چہ آپ سودی معاملات کے  بلا واسطہ کرنے میں شریک نہیں ہیں، پھر بھی سودی معاملات کا لکھنا دوسروں کے سودی معاملات میں معاونت ہے، آپ کے فرائض میں دیگر جائز کام ان سودی معاملات کے لکھنے سے زیادہ ہوں تو  آپ کی ملازمت  جائز ہے، لیکن ان سودی معاملات  کا لکھنا گناہ اور ناجائزہے، اور اس کی اجرت بھی جائز نہیں؛ اس لیے کوشش کیجیے کہ کوئی ایسی ملازمت ہو جس میں اس طرح کے اندراجات کی نوبت بھی نہ آئے۔

اگر اسی ادارے میں رہتے ہوئے خود کو سودی اندراجات سے کنارہ کش کرسکتے ہیں تو ایسا کرلیجیے۔  ورنہ سچی لگن کے ساتھ مکمل جائز ملازمت تلاش کریں، جب تک مکمل جائز اور حلال ذریعہ آمدن نہ ملے اس وقت تک استغفار کرتے ہوئے ملازمت جاری رکھیں، جیسے ہی مکمل جائز کام مل جائے تو اسے ترک کردیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908201072


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں