بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سود کی رقم کا مصرف


سوال

سود کی رقم اہلِ زکاۃ  کو دی جا سکتی ہے؟  اگر ایسا ہی ہے تو کسی اہلِ زکاۃ  بندہ یا بندی کو پانی کی موٹر، بیٹی کی شادی، بچوں کی تعلیم, قرضہ واپسی کے لیے رقم دی جا سکتی ہے؟ کیا سود کی رقم مدرسہ کو دی جا سکتی ہے؟

جواب

1-  جی  ہاں! سودی رقم کو اگر اس کے مالک تک پہنچانا ممکن نہ ہو تو اس کا مصرف یہی ہے کہ کسی مستحقِ زکاۃ  کو وہ رقم ثواب کی نیت کے بغیر مالک بناکر دے دی جائے؛ لہٰذا مذکورہ مقاصد کے لیے مستحقِ زکاۃ شخص کو سودی رقم دی جاسکتی ہے۔

2-مذکورہ حکم کی روشنی میں ایسے مدارس میں سودی رقم دی جاسکتی ہے جہاں زکاۃ کا مصرف موجود ہو۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200354

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے