بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سود کی رقم انکم ٹیکس میں دینا


سوال

میرے والد نے تقریباً 20 لاکھ قومی بچت میں رکھے ہیں،  جن سے قریبا20 ہزارماہانہ سود آتا ہے،  وہ یہ رقم مجھے ہر مہینے تحفۃدیتے ہیں؛ کیوں کہ وہ اس کو جائز سمجھتے ہیں،  مگر میں علیحدہ رکھ رہاہوں کہ بلا ثواب کی نیت سے کسی مصرف میں لے آؤں گا۔ دوسری طرف ہرمہینے میری تنخواہ سے حکومت ٹیکس کاٹتی ہے جو ایک غیر اسلامی فعل ہے؛ کیو ں کہ میں باقاعدگی سے زکاۃ دیتا ہوں تو کیا میں سود کے پیسوں سے اپنا ؟ٹیکس کا نقصان پورا کر سکتا ہوں؟

جواب

آپ اپنے والد کو سمجھائیں کہ یہ سودی کمائی ختم کریں اور اس سے توبہ کریں۔ اورجب  آپ کو معلوم ہے کہ یہ رقم سود ہے تو آپ  یہ رقم وصول نہ کیا کریں۔

حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے غیر واجبی وغیر شرعی ٹیکس میں سود کا یہ روپیہ لگانا  جو پہلے سے موجود ہے،درست ہے، بشرطیکہ یہ سودی روپیہ حکومت کے کسی ادارہ یا بینک سے ملا ہو۔ (فتاویٰ محمودیہ ۲۰۳) لیکن اس نیت سے سود لے کر رکھنا جائز نہیں ہے۔

’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘ :

"غصب دراهم إنسان من کیسه، ثم ردها فیه بلا علمه برئ، وکذا لو سلمه إلیه بجهة أخری کهبة، أو إیداع، أو شراء، وکذا لو أطعمه فأکله خلافاً للشافعي. زیلعي".  (۹/۲۶۷، کتاب الغصب ، مطلب في رد المغصوب وفیما لو أبی المالك قبوله) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200404

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے