بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سودی بینکوں اور مروجہ اسلامی بینکوں کے ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ خریداری کرنے پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ سے نفع اٹھانے کا حکم


سوال

ڈیبٹ کارڈ سے خریداری پر ڈسکاؤنٹ لینا کیسا ہے؟ آج کل اسلامی بینک بھی ڈیبٹ کارڈ سے خریداری کرنے پر ڈسکاؤنٹ دے رہے ہیں، اس کا حکم بھی بتا دیں۔

 

جواب

ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ سے ادائیگی کرنے کی صورت میں جو ڈسکاؤنٹ ملتا ہے  اس کے حکم میں یہ تفصیل ہے :

1۔ اگر یہ انعام بینک کی طرف سے ملتا ہوتو اس صورت میں اس انعام کا حاصل کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا شرعاً ناجائز ہوگا، کیوں کہ یہ انعام بینک کی طرف سے کارڈ ہولڈر کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی وجہ سے مل رہا ہے جو شرعاً قرض کے حکم میں ہے اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے وہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔

2۔ اگر یہ انعام اس ادارے کی جانب سے ہو جہاں سے کچھ خریدا گیاہے یاوہاں کھاناکھایا گیاہے تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا۔

3۔ اگر انعام دونوں (یعنی بینک اور ادارہ ) کی طرف سے مشترکہ طور پر  ہو تو بینک کی طرف سے دیے جانے والے انعام کے بقدر انعام سے فائدہ اٹھانا درست نہ ہوگا۔

4۔اگر  انعام نہ تو بینک کی طرف سے ہو اور نہ ہی جس ادارے سے خریداری ہوئی ہے اس کی طرف سے ہو، بلکہ ڈیبٹ کارڈ بنانے والے ادارے کی طرف سے  ہو، تو اگر اس ادارے کے تمام یا اکثر معاملات بھی جائز ہوں اور ان کی آمدن کل یا کم از کم اکثر حلال ہو تو اس صورت میں بھی اس انعام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔

5۔ اگر معلوم نہ ہوکہ یہ انعام کس کی طرف سے ہے تو پھر اس انعام سے فائدہ اٹھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ملک کے جمہور علمائے کرام اور مقتدر مفتیان کرام کی رائے کے مطابق مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات مکمل طور  پر شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے مروجہ اسلامی بینکوں کے ساتھ بھی صرف اتنے ہی معاملات رکھنے کی گنجائش ہے جتنی سودی بینکوں کے ساتھ ہے، مثلاً جس طرح سودی بینکوں میں  کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے یا ان کے ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے کی گنجائش ہے،  اسی طرح مروجہ اسلامی بینکوں میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے اور ان کا ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے کی گنجائش ہے، البتہ جس طرح سودی بینک میں  سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ خریداری پر سودی بینک کی طرف سے ملنے والے ڈسکاؤنٹ سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہے اسی طرح مروجہ اسلامی بینکوں میں بھی سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا یا ان  مروجہ اسلامی بینکوں کے ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کرنے پر ان بینکوں کی طرف سے ملنے والے ڈسکاؤنٹ سے نفع اٹھانا بھی جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166):

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاً حرام".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 167):

"في الذخيرة: وإن لم يكن النفع مشروطاً في القرض، ولكن اشترى المستقرض من المقرض بعد القرض متاعاً بثمن غال، فعلى قول الكرخي: لا بأس به، وقال الخصاف: ما أحب له ذلك، وذكر الحلواني: أنه حرام، لأنه يقول: لو لم أكن اشتريته منه طالبني بالقرض في الحال". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200457

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے