بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سوتیلے بھائی کی بیٹی سے نکاح جائز نہیں


سوال

 کیا سوتیلے  ( ماں شریک)بھائی کی بیٹی محرم ہے کہ نہیں؟ کیا اس سے نکاح جائز ہے؟

جواب

سوتیلابھائی(چاہے ماں شریک ہو یاباپ شریک)کی اولاد محارم میں داخل ہے۔"المبسوط "میں ہے:

''والسادس:بنات الأختثبت حرمتهن بقوله تعالى: ﴿ وَبَنَاتُ الْأَخِ﴾[النساء: 23] ويدخل في ذلكبنات الأخلأب وأم أو لأب أو لأم.''(4/362،ط:دارالفکر)

لہذا سوتیلے بھائی کی بیٹی سے نکاح جائزنہیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143904200023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے