بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1440ھ- 18 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

سفانہ اور سارہ نام رکھنا


سوال

سفانہ اور سارہ نام کے معنی کیا ہیں؟ اور کیا یہ نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب

1۔ لغت عربی میں میں سفانہ کے معنی موتی کے ہیں، جیساکہ (المعجم الوسیط) میں ہے:

السَّفَّانَةُ : اللؤْلُؤةُ.

"سفانہ" نام رکھنا درست ہے۔

2۔ سارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ جو کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی والدہ تھیں کا نام تھا، ان کی نسبت سے یہ نام رکھنا درست ہے۔

وجاء في فتح الباري وغيره ما ملخصه:

"كان إبراهيم قد دعا الله أن يهب له ولداً من الصالحين فأخرت الدعوة حتى كبر، وكانت سارة قد وهبته أمتها بعد ما يئست من الولد فلما علمت سارة أن إبراهيم وقع على هاجر حزنت على ما فاتها من الولد فلما جاءت الملائكة لإبراهيم بإهلاك قوم لوط بشرت سارة بولدها إسحاق ومن بعده يعقوب؛ فلذلك قال تعالى: وامرأته قائمة فضحكت فبشرناها بإسحاق ومن وراء إسحاق يعقوب ـ الآيات، فقال إبراهيم: الحمد لله الذي وهب لي على الكبر إسماعيل وإسحاق إن ربي لسميع الدعاء ـ ويقال لم يكن بينهما ـ إسماعيل وإسحاق ـ إلا ثلاث سنين، وقيل غير ذلك". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200591

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے