بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

سرکاری ملازم کا گاڑی خریدنے کے لیے سودی قرض لینا


سوال

ایک سرکاری ملازم کو اگر گاڑی لینی ہو اور اس کے پاس پیسے بھی موجود ہو ں، مگر اس کو بینک سے ضروری لون لینا پڑتا ہے،  اور پھر سود دینا پڑتا ہے اور اگر وہ نقد ہی سب ہی پیسے دے دے تو سرکار اس پر انکوائری بٹھائے  گی کہ آپ نے یہ پیسہ کہاں سے لایا اور پھر ہر سال پیسوں کا حساب دینا پڑے گا ،تو اس میں کیا کیا جائے؟

جواب

بینک سے سودی قرضہ لینا کسی صورت جائز نہیں،اگر تفتیش کا خوف ہے تو آپ اپنی حلال آمدن کے ذرائع سرکار سے پوشیدہ نہ رکھیں،اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کسی سے غیر سودی قرض لے کر اسے ظاہر کریں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200841

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے