بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرنے کا حکم


سوال

ساتویں دن سے پہلے عقیقے کا حکم کیا ہے؟

جواب

ساتویں دن سے پہلے عقیقہ کرنے کی صورت میں نفسِ عقیقہ  کی سنت ادا ہوجائے گی، البتہ مستحب وقت (ساتویں، چودھویں  یا اکیسویں  دن) میں عقیقہ کرنے کا ثواب نہیں ملے گا۔

فيض الباري شرح البخاري - (7 / 81):
"ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلتُ: بل يجوز إلى أن يموت".

تنقیح الفتاوی الحامدیة (2/ 233) میں ہے:

"ويسن أن يعق عن نفسه من بلغ ولم يعق عنه". (کتاب الذبائح، مکتبة حامدیة) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے