بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف بال کاٹنے کی حد اور دبر کے بال کاٹنے کا حکم


سوال

زیر ناف بال کاٹنے کی حد بتا دیں. اور اس بات کی بھی وضاحت فرما دیں کہ دبر کے بال کاٹنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر جائز ہے تو اس کی حد کیا ہے؟ 

جواب

مثانہ سے نیچے  پیڑوں  کی ہڈی  سے لے کررانوں کی جڑوں تک اور پیشاب پاخانہ کی جگہ (یعنی دبر) کے اِردگرد (جہاں نجاست کے لگنے کا امکان ہو) زیرِناف بال مونڈنے چاہییں، رانوں کے بالوں پر جہاں نجاست لگنے کا زیادہ امکان رہتاہے وہ بال بھی کاٹنے چاہییں۔ زیرِ ناف بالوں کی صفائی میں پچھلی شرم گاہ کے ارد گرد کے بال کاٹنا بھی ضروری ہے؛ کیوں کہ ان میں نجاست لگنے کا زیادہ احتمال ہوتاہے۔

"ويبتدئ في حلق العانة من تحت السرة، ولو عالج بالنورة في العانة يجوز، كذا في الغرائب".  (الفتاوی الهندیة، کتاب الکراهیة، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها (5/358)

"وأما الاستحداد فهو حلق العانة سمي استحداداً؛ لاستعمال الحديدة وهي الموسى، وهو سنة، والمراد به نظافة ذلك الموضع، والأفضل فيه الحلق، ويجوز بالقص والنتف والنورة، والمراد بالعانة: الشعر الذي فوق ذكر الرجل وحواليه وكذاك الشعر الذي حوالي فرج المرأة". (شرح النووي علی مسلم، کتاب الطهارة، باب خصال الفطرة (3/148) ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

"والعانة: الشعر القريب من فرج الرجل والمرأة، ومثلها شعر الدبر، بل هو أولى بالإزالة ؛ لئلايتعلق به شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر". (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحج، فصل فی الاحرام و صفة المفرد (2/481) ط: سعید)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200526

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے