بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی نیت سے رقم الگ کرنے کے بعد کچھ رقم ضائع ہوگئی تو زکاۃ کا حکم


سوال

زکاۃ  کی نیت سے میں نے بیس ہزار روپے  الگ کیے اور پھر ان میں سے چار ہزار  ایک غریب کو دیے، اور بقایا سولہ ہزار روپے  گم ہوگئے تو آیا جو پیسے الگ کیے  اور ابھی کچھ گم ہوگئے تو سب20000 کی زکاۃ اداہوگئی یا صرف وہ4000کی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں زکاۃ  کی نیت سے بیس ہزار روپے الگ کرکے چار ہزار مستحق کو دے دیے  تو وہ  چار ہزار تو زکاۃ  میں ادا ہوگئے، باقی سولہ ہزار جو گم ہوگئےوہ زکاۃ  میں ادا نہیں ہوئے ، اس قدر رقم کی دوبارہ زکاۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 270):
"ولايخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء. 

(قوله: ولايخرج عن العهدة بالعزل) فلو ضاعت لاتسقط عنه الزكاة، ولو مات كانت ميراثاً عنه، بخلاف ما إذا ضاعت في يد الساعي؛ لأن يده كيد الفقراء، بحر عن المحيط". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200145

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے