بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زکات کی ادائیگی کے لیے سونا بیچنا


سوال

 اگر کسی پر زکات فرض ہوگئی، لیکن ادا کرنے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اور سونا ساڑھے دس تولہ ہے، لیکن زکات ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں، برائے مہربانی اس مسئلہ کی جلد از جلد وضاحت فرمادیں!

جواب

مذکورہ صورت میں اصل تو یہ ہے کہ دس تولہ سونے پر اس کا چالیسواں حصہ (یعنی ڈھائی فی صد 0.25 تولہ سونا) بطورِ زکات نکالا جائے۔ البتہ شریعت نے یہ اختیار بھی دیا ہے کہ مقررہ مقدار سونے کے بدلے اس کی قیمت یا اس قیمت سے کچھ خرید کر بھی مستحق کو دیا جاسکتاہے۔

لہٰذا پہلی صورت تو یہ ہے کہ 0.25 تولہ سونا وزن کرواکر زکات میں ادا کردے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اتنے سونے کو فروخت کرکے اس کی قیمت ادا کردے۔ اور اگر سونا نہیں بیچنا چاہتا تو  زکات میں واجب مقدار کسی سے قرض لے کر زکات ادا کردے، اس سے بھی زکات ادا ہوجائے گی۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ اگر جلد رقم آنے کی توقع ہے تو جس دن زکات کا سال مکمل ہو اس دن 0.25 تولہ کی قیمت نوٹ کرلے، اور جیسے جیسے رقم آتی رہے جتنا جلدی ہوسکے زکات ادا کردے، بلاوجہ بالکل تاخیر نہ کرے۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ اگر نقد رقم موجود نہیں ہے، لیکن دیگر اجناس میں سے قابلِ استعمال قیمتی اشیاء موجود ہیں (مثلاً: بعض لوگوں کے پاس کپڑوں کے اَن سلے قیمتی جوڑے رکھے ہوتے ہیں) تو ان کی مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قیمت لگاکر مستحقِ زکات کو ادا کردے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200577

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے