بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1440ھ- 20 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

زکات کی رقم سے بیت الخلا بنانا


سوال

کیا واش روم بنوانے کے لیے زکاۃ  کے پیسوں کا استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

کسی رفاہی ادارے یا مدرسے کی تعمیرات یا بیت الخلا  کی تعمیر میں زکاۃ  کی رقم لگانا جائزنہیں ہے۔ زکاۃ کی ادائیگی کے لیے شرعاً ضروری ہے کہ کسی غریب کو مالک بنا کر دی جائے۔ البتہ اگر کوئی غریب شخص زکاۃ  وصول کرکے اپنی ضرورت کے لیے گھر یا  بیت الخلا وغیرہ بنائے یا بغیر کسی دباؤ کے دلی رضامندی سے مسجد یا مدرسے میں عطیہ دے اور اس سے بیت الخلا تعمیر کیا جائے تو یہ جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200491

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے