بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1440ھ- 15 نومبر 2018 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں ساری جائیداد ایک بیٹے کو دینا


سوال

افضل کے تین بیٹے انور، افتخار اوراشرف اور دو بیٹیاں ہیں۔ انورلاولدفوت ہوگیاہے، افتخار نے اپنی ساری جائیداد والد کے حوالے کر دی کہ مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے، دونوں بیٹیاں بھی اپنے حصہ سےدست بردارہوکروالد کےحوالے کرتی ہیں، افضل ساری جائیداد اشرف کے نام کرنا چاہتے ہیں، شریعت کی رو سے کیا حکم ہے؟ 

جواب

والد کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کو دینا ہبہ ہے اور ہبہ کے بارے میں شریعتِ مقدسہ کی ہدایت یہ ہے کہ ہبہ کرنے میں تمام اولاد ( بیٹے اور بیٹیوں ) کے درمیان برابری کی جائے، اس لیے افضل کو چاہیے  کہ اپنی ساری جائیداد صرف اشرف کو دینے کے بجائے تمام اولاد (تین بیٹے اور دو بیٹیوں ) کو برابر برابر کر کے دے، ورنہ اگر بغیر معقول شرعی وجہ کے تقسیم میں مساوات نہیں کی تو گناہ گار ہوگا اور آخرت میں پکڑ ہوگی، البتہ اگر اشرف کو اس کی دین داری یا خدمت گزاری  کی وجہ سے کچھ زائد دینا چاہے تو اس کی گنجائش ہے۔بیٹیاں بھی اگر مال دار ہیں اور والد کی جائیداد کم ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ راضی و خوشی دست بردار ہورہی ہیں تو والد کاساری جائیداد اشرف کو دینے  کی اجازت  ہے ، لیکن اگر بیٹیوں کی بھی ضرورت ہو یا ضرورت نہ ہو ،لیکن وہ خواہش رکھتی ہوں تو پھر ان کو بھی حصہ بصورتِ ہبہ دیناچاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200919


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں