بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنے کا طریقہ


سوال

اگر کوئی شخص اپنے وارثین کو نزاع سے بچانے کی نیت سے زندگی ہی میں زمین و جائیداد  اپنی اولاد کے درمیان تقسیم  کرے تو کس کا کیا حصہ بنے گا ؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے اور اپنی اہلیہ کے لیے جتنا حصہ رکھنا چاہے اتنا رکھ لے کہ خدانخواستہ شدید ضرورت کے وقت محتاجی نہ ہو، اور بہتر یہ ہے کہ بیوی کے لیے جائیداد کا آٹھواں حصہ رکھے اس کے بعد  باقی کل جائیداد کو تمام اولاد (بیٹے اور بیٹیوں) میں برابر برابر تقسیم کردے، بلا وجہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ نہ دے اور نہ ہی بیٹے اور بیٹیوں میں کسی قسم کا فرق کرے، تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصے پر مکمل قبضہ اور تصرف کا اختیار بھی دے دے۔ واضح رہے کہ زندگی میں جائیداد کی تقسیم میراث نہیں کہلاتی، بلکہ یہ ہبہ (گفٹ) ہے، لہٰذا اس پر ہبہ کے احکام لاگو ہوں گے، میراث تو میت کا ترکہ ہے جو آدمی کی موت کے بعد  ہی تقسیم کیا جاتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200049

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے