بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

زمین بیچنے کے تین سال بعد ثمن بصورتِ جائیداد وصول ہونے کی صورت میں گزشتہ تین سال کی زکاۃ کا حکم


سوال

ایک شخص نے زمین بیچی اور اس کی ثمن جائیداد کی شکل میں تین سال بعد وصول ہوئی، یعنی روپیہ کے بجائے مشتری نے بطورِ ثمن جائیداد بائع کو دی۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ بطورِ ثمن حاصل ہونے والی جائیداد پر گزشتہ سالوں کی زکات لازم ہوگی یا نہیں؟  خصوصاً جب اس میں بائع کی تجارت کی نیت بھی نہ ہو۔

مقصدِ سوال یہ ہے کہ جس طرح چند سالوں بعد پیسوں کی شکل میں حاصل ہونے والی  ثمن پر دینِ قوی ہونے کی وجہ سے سنینِ ماضیہ کی زکاۃ لازم ہے، کیا اسی طرح جائیداد کی شکل میں حاصل ہونے والی ثمن میں بھی زکاۃ لازم ہوگی جب کہ اس میں تجارت کی نیت بھی نہ ہو؟

جواب

مذکورہ شخص نے جس وقت زمین بیچی تو مشتری کے ذمہ اس کی طے شدہ ثمن واجب الادا ہوگئی،  مذکورہ بیچی گئی زمین اگر مالِ تجارت تھی تو یہ شخص ’’دینِ قوی‘‘ کا مالک بن گیا اور اگر مذکورہ زمین مالِ تجارت نہیں تھی تو یہ شخص ’’دینِ متوسط‘‘ کا مالک بن گیا، ’’دینِ قوی‘‘ اور ’’دینِ متوسط‘‘ دونوں کا حکم یہ ہے کہ ان پر زکاۃ کا وجوب تو سال پورا ہوتے ہی ہوجاتا ہے (بلکہ دینِ قوی میں تو  مالِ تجارت کی ملکیت پر سال پورا ہوتے ہی زکاۃ واجب ہوجاتی ہے) البتہ زکاۃ  کی ادائیگی  وصول ہونے کے بعد لازم ہوتی ہے، چناں چہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص تین سال تک دینِ قوی یا متوسط کا مالک رہا ہے؛  اس لیے اس پر اس ثمن کی زکاۃ تو واجب ہوتی رہی، البتہ ادائیگی لازم نہیں تھی، لیکن تین سال بعد جب مشتری نے نقدی کے بجائے جائیداد  دے دی تو گویا مذکورہ شخص نے اپنا دین وصول تو کرلیا، لیکن اس طور پر کہ اس نے مشتری پر اپنے دین کے بدلہ اس سے جائیداد خرید لی، لہٰذا اب مذکورہ شخص پراس رقم کی گزشتہ تین سالوں کی زکاۃ ادا کرنا واجب ہے، جس رقم کے بدلہ اس نے اپنی زمین بیچی تھی۔

البتہ آئندہ اگر اس کی نیت جائیداد میں تجارت کی نہیں ہے، بلکہ ذاتی استعمال یا کرایہ پر دینے کی ہے تو آئندہ اس کی زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 305):

"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم (و) عند قبض (مائتين منه لغيرها) أي من بدل مال لغير تجارة وهو المتوسط كثمن سائمة وعبيد خدمة ونحوهما مما هو مشغول بحوائجه الأصلية كطعام وشراب وأملاك. ويعتبر ما مضى من الحول قبل  القبض في الأصح.

 (قوله: ويعتبر ما مضى من الحول) أي في الدين المتوسط؛ لأن الخلاف فيه، أما القوي فلا خلاف فيه لما في المحيط من أنه تجب الزكاة فيه بحول الأصل، لكن لايلزمه الأداء حتى يقبض منه أربعين درهماً. أما المتوسط ففيه روايتان، في رواية الأصل  تجب الزكاة فيه ولايلزمه الأداء حتى يقبض مائتي درهم فيزكيها. وفي رواية ابن سماعة عن أبي حنيفة: لا زكاة فيه حتى يقبض ويحول عليه الحول؛ لأنه صار مال الزكاة الآن فصار كالحادث ابتداء. ووجه ظاهر الرواية أنه بالإقدام على البيع صيره للتجارة فصار مال الزكاة قبيل البيع اهـ ملخصاً.

والحاصل: أن مبنى الاختلاف في الدين المتوسط على أنه هل يكون مال زكاة بعد القبض أو قبله؟ فعلى الأول لا بد من مضي حول بعد قبض النصاب. وعلى الثاني ابتداء الحول من وقت البيع، فلو له ألف من دين متوسط مضى عليها حول ونصف فقبضها يزكيها عن الحول الماضي على رواية الأصل، فإذا مضى نصف حول بعد القبض زكاها أيضاً. وعلى رواية ابن سماعة لايزكيها عن الماضي ولا عن الحال إلا بمضي حول جديد بعد القبض. وأما إذا كانت الألف من دين قوي كبدل عروض تجارة، فإن ابتداء الحول هو حول الأصل لا من حين البيع ولا من حين القبض، فإذا قبض منه نصاباً أو أربعين درهماً زكاه عما مضى بانياً على حول الأصل؛ فلو ملك عرضاً للتجارة ثم بعد نصف حول باعه ثم بعد حول ونصف قبض ثمنه فقد تم عليه حولان فيزكيهما وقت القبض بلا خلاف كما يعلم مما نقلناه عن المحيط وغيره، فما وقع للمحشين هنا من التسوية بين الدين القوي والمتوسط وأنه على الرواية الثانية لايزكي الألف ثانياً إلا إذا مضى حول من وقت القبض فهو خطأ لما علمت من أن الرواية الثانية في المتوسط فقط ولأنه عليها لايزكي أولاً للحول الماضي خلافاً لما يفهمه لفظ ثانياً فافهم، (قوله: في الأصح) قد علمت أنه ظاهر الرواية، وعبارة الفتح والبحر في صحيح الرواية". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201280

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے