بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

ریکارڈنگ اور کیسٹ میں قرآن مجید کی تلاوت پر خاموش ہونا


سوال

" قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ " جب قرآن پڑھا جائے تو خاموش رہو اور غور سے سنو؛ تاکہ تم پر رحم کیا جائے"۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس آیت کا اطلاق اس صورت میں بھی ہو گا کہ جب آڈیو کیسٹ یا سی ڈی یا کمپیوٹر یا ٹی وی کے ذریعہ قرآن کی تلاوت سنی جا رہی ہو؟

جواب

قرآنِ کریم کی تلاوت براہِ راست ہو یا ریکارڈ شدہ ہو ،بہر دوصورت اس کا ادب واحترام ضروری ہے۔

 حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ’’آلات جدیدہ کے شرعی احکام ‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:   

 ’’یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآنِ کریم جب اس میں (ٹیپ ریکارڈ میں) پڑھنا جائز ہے تو اس کا سننا بھی جائز ہے، شرط یہ ہے کہ ایسی مجلسوں میں نہ سناجائے جہاں لوگ اپنے کاروبار یا دوسرے مشاغل میں لگے ہوں، یاسننے کی طرف متوجہ نہ ہوں، ورنہ بجائے ثواب کے گناہ ہوگا ‘‘۔    (آلات جدیدہ کے شرعی احکام از مولانا مفتی محمد شفیع ،ٹیپ ریکارڈر مشین پر تلاوت قرآن کا حکم ،ص:۲۰۷،ط: ادارۃ المعارف)

واضح رہے کہ نماز  کے دوران تلاوت کو  اور خطبہ خواہ وہ جمعہ کا ہو یا کوئی اور ہو  اسے  کان لگاکر سننا، اور اس دوران خاموش رہنا  واجب ہے، البتہ نماز اور خطبہ کے علاوہ عام حالات میں کوئی شخص بطورِ خود تلاوت کر رہا ہے تو دوسروں کو خاموش رہ کر اس پر کان لگانا واجب ہے یا نہیں، اس میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں، بعض حضرات نے اس صورت میں بھی کان لگانے اور خاموش رہنے کو واجب اور اس کے خلاف کرنے کو گناہ قرار دیا ہے، لیکن بعض دوسرے فقہاء نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ کان لگانا اور سننا صرف ان جگہوں میں واجب ہے جہاں قرآن کو سنانے ہی کے لیے پڑھا جارہا ہو، جیسے نماز و خطبہ وغیرہ میں،  اور اگر کوئی شخص بطورِ خود تلاوت کر رہا ہے یا چند آدمی کسی ایک مکان میں اپنی تلاوت کر رہے ہیں تو دوسرے کی آواز پر کان لگانا اور خاموش رہنا واجب نہیں، لیکن اولی اور بہتر سب کے نزدیک یہی ہے کہ خارجِ نماز بھی جب کہیں سے تلاوت قرآن کی آواز آئے تو اس پر کان لگائے اور خاموش رہے، اسی لیے ایسے مواقع میں جہاں لوگ سونے میں یا اپنے کاروبار میں مشغول ہوں تلاوتِ قرآن بآواز بلند کرنا مناسب نہیں۔(مستفاد از معارف القرآن)

لہٰذا اگر کیسٹ وغیرہ کے ذریعے تلاوت لگائی جائے اور دیگر لوگ پہلے سے اپنے کاموں میں مشغول نہ ہوں تو انہیں خاموشی اور ادب سے تلاوت سننا چاہیے، اگر کوئی ضروری کام یا بات ہو تو تلاوت کا سلسلہ موقوف کرکے بات یا کام کرلینا چاہیے، اور اگر پہلے سے ضروری کام یا گفتگو میں مشغول ہوں اور کوئی دوسرا شخص تلاوت کی ریکارڈنگ لگالے تو اگرچہ خاموش ہونا اور کام چھوڑنا واجب نہیں ہوگا، لیکن بہرحال جس قدر ہوسکے ادب کے ساتھ تلاوت سننے کی طرف دھیان رکھنا چاہیے۔

التفسير المظهري (3/ 452):
"والمراد به القران المقر ولاستماعكم كالامام يقرأ حتى يسمع من خلفه والخطيب يقرأ للتخاطب والمقري يقرأ على التلميذ والله اعلم". 
فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144004201418

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے