بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 شوال 1440ھ- 25 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

رہائشی پروجیکٹ کی قرعہ اندازی میں شریک ہونا


سوال

کسی رہائشی پروجیکٹ میں قرعہ اندازی کے ذریعے پلاٹ خریدنا کیسا ہے؟ طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ پروجیکٹ انتظامیہ خواہش مند حضرات سے درخواست وصول کرتی ہے اور درخواست کے ساتھ درخواست کی فیس بھی وصول کی جاتی ہے جو ناقابلِ واپسی ہوتی ہے. پھر جن کا نام قرعہ اندازی میں آجائے ان کو پلاٹ خریدنے کا حق مل جاتا ہے اور وہ پلاٹ کی قیمت ادا کرکے مالک بن جاتے ہیں جب کہ بقیہ لوگوں کو کچھ نہیں ملتا اور درخواست کی فیس بھی واپس نہیں ملتی.

کیا اس طرح پلاٹ خریدنا اور اس قرعہ اندازی میں ناقابل واپسی فیس دے کر شریک ہونا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر وصول کردہ فیس کسی فارم وغیرہ کے عوض میں ہے  اورفارم کی عموماً جتنی فیس ہو اتنی ہی وصول کریں تومذکورہ طریقہ کے مطابق پلاٹ کی خریداری جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200804

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے