بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

روزے میں بلغم کا کیا حکم ہے؟


سوال

روزے میں بلغم کا کیا حکم ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں بلغم کو اندر سے باہر نکال کر تھوک دینے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا خواہ عمداً ہو۔  ہاں! اگر بلغم پیٹ سے منہ میں آکر رک جائے اور مقدار بھی زیادہ ہو اور اس کو قصداً نگل لیا جائے تو امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک روزہ فاسد ہوجائے گااور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک فاسد نہیں ہوگا ؛  اس لیے احتیاط ضروری ہے، اور اگر بلغم کی مقدار کم ہو تو بالاتفاق روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200819

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے