بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی نیت کی مشہور دعا احادیث سے ثابت نہیں


سوال

رمضان میں روزے کی نیت کی دعا احادیث سے ثابت ہے کہ نہیں؟

جواب

نیت در حقیقت دل کے ارادہ کا نام ہے، البتہ زبان سے نیت کا اظہار مستحب ہے، تاہم رمضان کے روزے کی نیت کے حوالے سے مخصوص الفاظ احادیث میں منقول نہیں، مستحب کی ادائیگی کے لیے صرف زبان سے یہ کہہ دینا کافی ہے کہ آج میرا روزہ ہے، نیز سحری کھانا ہی روزے کی نیت و ارادہ ہے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وَشَرْطُ) صِحَّةِ الْأَدَاءِ: النِّيَّةُ وَالطَّهَارَةُ عَنْ الْحَيْضِ وَالنِّفَاسِ، كَذَا فِي الْكَافِي وَالنِّهَايَةِ. وَالنِّيَّةُ مَعْرِفَتُهُ بِقَلْبِهِ أَنْ يَصُومَ، كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ، وَمُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ. وَالسُّنَّةُ أَنْ يَتَلَفَّظَ بِهَا، كَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ. ثُمَّ عِنْدَنَا لَا بُدَّ مِنْ النِّيَّةِ لِكُلِّ يَوْمٍ فِي رَمَضَانَ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ. وَالتَّسَحُّرُ فِي رَمَضَانَ نِيَّةٌ، ذَكَرَهُ نَجْمُ الدِّينِ النَّسَفِيُّ". ( كِتَابُ الصَّوْمِ وَفِيهِ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي تَعْرِيفِهِ وَتَقْسِيمِهِ وَسَبَبِهِ وَوَقْتِهِ وَشَرْطِهِ، ١/ ١٩٥) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201899

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے